امریکا کا ایف-35 یا روسی ایس یو-57، دنیا کا خطرناک جنگی طیارہ کون سا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
واشنگٹن/ ماسکو:
دنیا بھر میں جنگی طیاروں کے حوالے سے فضائی جنگ میں برتری پر بحث ہوتی رہتی ہے تاہم امریکا کے ایف-35 لائٹننگ ٹو اور روس کے ایس یو-57 فیلون کے درمیان فضائی جنگ کی نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی ایف-35 لائٹننگ ٹو اور روس کے ایس یو-57 فیلون کی صلاحیت اور ان کے خطرناک وار کے حوالے سے مقابلہ ہے اور اس پر بات کی جارہی ہے کہ آیا ان دونوں میں سے مؤثر کون سا طیارہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایف-35 جنگی طیارہ اور ایس یو-57 دونوں طیارے ففتھ جنریشن اسٹیلتھ فائٹر ہیں جو ایک دوسرے سے برعکس ڈیزائن کیے گئے ہیں، یہاں دونوں جنگی طیاروں کی تفصیلات دی جا رہی ہیں؛
دونوں ممالک کے جنگی طیاروں کے صلاحیت کا موازنہ کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف-35جنگی طیارہ انتہائی کم کراس سیکشن تقریباً 0.
امریکی طیارے کا اے این/ اے پی جی-81 آئیسا ریڈار، 360 ڈگری ڈسٹریبیوٹڈ اپیرچور سسٹم (ڈی اے ایس) اور طیارے کا جدید سینسر پائلٹ کو غیرمعمولی صورت حال کی آگاہی فراہم کرتا ہے، جس کی بدولت اس کو حد نگاہ سے آگے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ روسی ایس یو-57 بھی اسٹیلتھ ہے لیکن اس کی سطح امریکی طیارے کے برابر نہیں اور اس کی جنگی میدان میں نیٹ ورکنگ تاحال کم میچور تصور کیا جا رہا ہے، ایس یو-57 جنگی طیارے کی میک ٹو کو پیچھے چھوڑنے اور تھری ڈی تھرسٹ ویکٹورنگ کے ذریعے انتہائی مشکل ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت ہے۔
روسی ایف-35 کی رفتار میک1.6 کے برابر اور عملی طور پر اس کی صلاحیت سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے مزید فضائی ایروبوٹکس میں مصروف رکھنے میں مدد ملتی ہے، اسی لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکی ایف-35 لائٹننگ ٹو بمقالہ روسی ایس یو-57 دونوں جنگی طیارے طاقت کے لحاظ ہم پلہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی صلاحیت ایس یو 57
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔