Express News:
2026-07-24@05:09:13 GMT

آئینی عدالت کو بڑے قانونی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

اسلام آباد:

نئی قائم شدہ ہونے والی وفاقی آئینی عدالت کو بڑے قانونی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے، یہ واضح نہیں کہ وہ مستقل طور پر کہاں کام کرے گی، فی الحال یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں کام کر رہی ہے مگر کمرہ عدالت نمبر ایک چیف جسٹس امین الدین کو استعمال کیلیے نہیں دیا جا رہا۔

اس سے قبل حکومت وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں آئینی عدالت قائم کرنا چاہتی تھی لیکن شرعی عدالت کے ججوں نے ایسا کرنے نہیں دیا۔

معلوم ہوا ہے کہ آئینی عدالت کے چند ججز بشمول چیف جسٹس امین الدین خان نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں اپنے چیمبرز استعمال کیے۔

سینئر وکلا نے کہا کہ ججوں کو ابتدا سے ہی سپریم کورٹ کے احاطے میں کام شروع کرنا چاہیے تھا۔

آئینی عدالت نے انتظامی عہدوں پرریٹائرڈ افسران اور ججوں کی بھرتی بھی شروع کر دی ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ خزانے کی بچت کے لیے ان عہدوں پر سپریم کورٹ کے موجودہ ملازمین کو زیرغور لانا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے ایک اہلکار کا دعویٰ ہے کہ ہزاروں مقدمات آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے، انکا فیصلہ کرنا بڑا چیلنج ہوگا۔ سینئر وکلا یہ بھی زور دے رہے ہیں کہ بدانتظامی اور گورننس سے متعلق عوامی مفاد کے مقدمات کے بجائے وہ مقدمات سنے جائیں جن میں قانون اور آئین کی تشریح درکار ہے۔

ججوں کو چاہیے کہ پہلے عوامی مفاد کے مقدمات کے لیے اصول و ضوابط طے کریں۔ آئینی عدالت نے تاحال اپنے رولز بھی تشکیل نہیں دیے۔

اس وقت ڈویژن بنچ مقدمات سن رہے ہیں۔ ججوں کے لیے یہ بڑا امتحان ہوگا کہ ثابت کریں کہ وہ انتظامیہ کے زیرِ اثر نہیں بلکہ بلا خوف و رعایت فیصلے کریں گے۔

26 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والے ایک سینئر وکیل کا کہنا ہے کہ بار کو 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں دائر کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت انتظامیہ کو عدلیہ پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔

ذرائع کے مطابق مستعفی جج منصور علی شاہ فی الوقت بارز میں جانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

وہ چند ماہ لاہور میں گزاریں گے یا ممکن ہے بیرونِ ملک جائیں کریں کیونکہ انہیں بین الاقوامی ثالثی کے شعبے میں کام کرنے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ انہیں لمز کی جانب سے بھی آفر دی گئی ہے۔ انکا ارادہ ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی علمی سرگرمیوں پر توجہ دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئینی عدالت سپریم کورٹ

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار