شاہد آفریدی کا سیاست میں آنے سے متعلق سوال کا مبہم جواب
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی المعروف لالا نے سیاست میں آنے سے متعلق سوال کا مبہم جواب دے کر ایک بار پھر اپنے مداحوں کو تذبذب کا شکار کردیا۔
لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ میں سیاست میں آنا نہیں چاہتا آپ دعا کریں کہ میں اس فیصلے پر ثابت قدم رہوں۔
انہوں نے بتایا کہ میں ایک سیاسی جماعت میں شمولیت کیلیے تیار تھا مگر پھر 6 سال پہلے کچھ ایسی چیزیں ہوئیں جس کے بعد میرا ذہن سیاست سے تبدیل ہوگیا۔
آفریدی نے کہا کہ سیاست میرے بس کی بات نہیں ہے اس لیے میں اس طرف آنے کا خواہش مند بھی نہیں۔
انہوں نے مبہم جواب دیتے صحافیوں سے کہا کہ آپ میرے لیے دعا کیجئے گا کہ اللہ مجھے سیاست میں نہ آنے کے فیصلے پر ثابت قدم رکھے کیونکہ یہی میرا ارادہ ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا ہوگا۔
اس انٹرویو میں عمران خان سے متعلق سوال کا جواب سُن کر آفریدی نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی کی تعریف بھی کی۔
واضح رہے کہ یہ گفتگو چند روز قبل آفریدی نے لندن دورے پر کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیاست میں
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔