نئی دہلی دھماکا، عینی شاہد نے مودی سرکار کی کہانی جھوٹی ثابت کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
نئی دہلی دھماکے میں مودی سرکار کی ہمیشہ کی طرح حقیقت چھوڑ کر اپنی بنائی کہانی سامنے آگئی۔
دھماکے کے عینی شاہد دھرمندر کے مطابق گاڑی کے اندر چار جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں 2 افراد باہر ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔
نئی دہلی دھماکے میں استعمال کی گئی گاڑی سفید رنگ کی ماروتی تھی، جس کی نمبر پلیٹ محمد ندیم، ہریانہ کی تھی۔
عینی شاہد دھرمندر کا کہنا ہے گاڑی ماروتی تھی، مگر امیت شاہ اور گودی میڈیا اسے Hyundai قرار دے رہے ہیں۔
دھرمندر کا کہنا ہے کہ گاڑی کے مالک کا نام ندیم تھا، RAW ٹرول اسے سلمان بنا رہے ہیں، جبکہ گودی میڈیا اسے طارق بتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب کار میں دھماکے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 24 افراد زخمی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نئی دہلی
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔