بیماری کا بہانہ کر چھٹی پر گیا ملازم نوکری سے فارغ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چین کے صوبے جیانگسو میں ایک غیر معمولی واقعہ سامنے آیا جہاں بیماری کے بہانے چھٹی لینے والے ملازم کو کمپنی نے اس کا اصل رنگ دیکھ کر برطرف کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 2019 میں چین نامی شخص نے اپنے کام کی جگہ بیماری کے بہانے سِک لِیو حاصل کی۔ فروری 2019 میں اس نے کمر میں درد کی وجہ سے دو بار بیماری کی چھٹی کی درخواست دی اور اسپتال کے بلز بطور ثبوت جمع کرائے، جس کے بعد اس کی چھٹی منظور ہوگئی۔
چھٹی کے بعد جب چین دوبارہ کام پر آیا تو اس نے ایک بار پھر بیماری کی چھٹی کے لیے درخواست دی، اس بار دائیں پاؤں میں شدید درد کی وجہ سے۔ کمپنی نے اسے ہدایت دی کہ وہ اسپتال کے مزید دستاویزات جمع کرانے کے لیے دفتر آئے۔ تاہم جب چین دفتر پہنچا تو سکیورٹی اہلکاروں نے اسے اندر جانے کی اجازت نہیں دی اور چند دن بعد اسے غیر حاضری کی بنیاد پر برطرف کر دیا گیا، ساتھ ہی الزام عائد کیا گیا کہ اس نے بیماری کو غلط انداز میں پیش کیا۔
عدالت میں پیش کیے گئے شواہد میں کمپنی نے فوٹیج پیش کی جس میں چین کو اسی دن بھاگتے دیکھا گیا جب اس نے بیماری کی چھٹی کے لیے درخواست دی تھی، اور چیٹ سافٹ ویئر کے ریکارڈ سے پتہ چلا کہ اس نے دن بھر 16,000 سے زائد قدم چلیں۔ چین نے بھی اپنی جانب سے اسپتال کے جامع ریکارڈز، بشمول کمر اور پاؤں کے اسکینز، کمپنی میں جمع کرائے تھے۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی کو حکم دیا کہ وہ چین کو دو ٹرائلز کے لیے معاوضہ ادا کرے کیونکہ اسے غیر قانونی طور پر برطرف کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔