Jasarat News:
2026-06-03@05:58:03 GMT

بیماری کا بہانہ کر چھٹی پر گیا ملازم نوکری سے فارغ

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

چین کے صوبے جیانگسو میں ایک غیر معمولی واقعہ سامنے آیا جہاں بیماری کے بہانے چھٹی لینے والے ملازم کو کمپنی نے اس کا اصل رنگ دیکھ کر برطرف کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 2019 میں چین نامی شخص نے اپنے کام کی جگہ بیماری کے بہانے سِک لِیو حاصل کی۔ فروری 2019 میں اس نے کمر میں درد کی وجہ سے دو بار بیماری کی چھٹی کی درخواست دی اور اسپتال کے بلز بطور ثبوت جمع کرائے، جس کے بعد اس کی چھٹی منظور ہوگئی۔

چھٹی کے بعد جب چین دوبارہ کام پر آیا تو اس نے ایک بار پھر بیماری کی چھٹی کے لیے درخواست دی، اس بار دائیں پاؤں میں شدید درد کی وجہ سے۔ کمپنی نے اسے ہدایت دی کہ وہ اسپتال کے مزید دستاویزات جمع کرانے کے لیے دفتر آئے۔ تاہم جب چین دفتر پہنچا تو سکیورٹی اہلکاروں نے اسے اندر جانے کی اجازت نہیں دی اور چند دن بعد اسے غیر حاضری کی بنیاد پر برطرف کر دیا گیا، ساتھ ہی الزام عائد کیا گیا کہ اس نے بیماری کو غلط انداز میں پیش کیا۔

عدالت میں پیش کیے گئے شواہد میں کمپنی نے فوٹیج پیش کی جس میں چین کو اسی دن بھاگتے دیکھا گیا جب اس نے بیماری کی چھٹی کے لیے درخواست دی تھی، اور چیٹ سافٹ ویئر کے ریکارڈ سے پتہ چلا کہ اس نے دن بھر 16,000 سے زائد قدم چلیں۔ چین نے بھی اپنی جانب سے اسپتال کے جامع ریکارڈز، بشمول کمر اور پاؤں کے اسکینز، کمپنی میں جمع کرائے تھے۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی کو حکم دیا کہ وہ چین کو دو ٹرائلز کے لیے معاوضہ ادا کرے کیونکہ اسے غیر قانونی طور پر برطرف کیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی چھٹی کے لیے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ