سردیوں میں مونگ پھلی کے شوقین افراد کیلئے اہم سوال، روزانہ کتنی مقدار فائدہ مند ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سردیوں میں مونگ پھلی نہ صرف ذائقے کا لطف بڑھاتی ہے بلکہ یہ صحت کے لیے بھی کئی فوائد کا خزانہ ہے، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، صحت مند چکنائیاں، وٹامن ای، نیاسین، فولک ایسڈ اور اہم معدنیات شامل ہیں، جو دل کی صحت، دماغی افعال اور پٹھوں کی مرمت میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ماہر غذائیت پریتی تیاگی کا کہنا ہے کہ روزانہ ایک مٹھی (تقریباً 40-50 گرام) مونگ پھلی کھانا بہترین ہے۔ یہ ناشتہ یا دو کھانوں کے درمیان بھوک کم کرنے کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔ مونگ پھلی کے مکھن کا استعمال بھی محدود رکھنا چاہیے، تقریباً 1.
تاہم زیادہ مونگ پھلی کھانے کے بعض نقصان دہ اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ فائٹک ایسڈ کی موجودگی کی وجہ سے آئرن، زنک، کیلشیم اور منگنیز کے جذب میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ زیادہ مقدار میں مونگ پھلی قبض، دست یا اپھارہ جیسے نظام انہضام کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ نمکین مونگ پھلی بلڈ پریشر بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ غیر محفوظ یا مرطوب ماحول میں ذخیرہ کی گئی مونگ پھلی میں افلاٹاکسن پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ مونگ پھلی کی شدید الرجی بھی سانس، کھانسی یا جسم میں خارش جیسی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مونگ پھلی کھانے کا بہترین وقت صبح یا دن کے دوران ہے، شام کے بعد استعمال نیند اور نظام انہضام پر اثر ڈال سکتا ہے۔ بھنی ہوئی مونگ پھلی اور بغیر اضافی شکر یا ہائیڈروجنائزڈ تیل والا مونگ پھلی مکھن سب سے بہتر انتخاب ہیں۔
مختصراً، روزانہ ایک مٹھی مونگ پھلی آپ کے دل، توانائی کی سطح اور مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اسے اعتدال میں استعمال کیا جائے تاکہ فوائد کے ساتھ کسی بھی قسم کی تکلیف سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سکتی ہے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔