آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے، یہ صوبائی خودمختاری پر ڈاکا ہے: وزیر اعلی پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے، یہ صوبائی خودمختاری پر ڈاکا ہے: وزیر اعلی پختونخوا WhatsAppFacebookTwitter 0 5 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے، یہ آئینی ترمیم صوبائی خودمختاری پر ڈاکا ہے۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ ہاس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آج پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے آیا تھا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی قرارداد جمع کرانی تھی۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ جس دن سے میں وزیراعلی بنا ہوں میں نیسب کو ملاقات کیلئے کہا، ملاقات نہیں ہوئی، پھر میں ہائیکورٹ بھی گیا کہ میری ملاقات کرائی جائے، پارلیمنٹ سپریم ہے اس لیے یہاں قرارداد جمع کرانا مناسب سمجھا۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کی ہم مخالفت کریں گے، 27ویں آئینی ترمیم صوبائی خود مختاری پر ڈاکا ہے، صوبائی خودمختاری پرکسی قسم کے حملے کو برداشت نہیں کریں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے، پاکستان تحریک انصاف جمہوریت اور آئین کی محافظ ہے۔وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس خیبرپختونخوا کا این ایف سی شیئر 19.
وزیراعلی سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا نے پاکستان کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں،ہمارے شہدا نے ملک کے لیے جانیں قربان کیں، قربانیاں دینے والے صوبے کی قدر کرنی چاہیے۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تیاری شروع کردی ہے، 27 ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 243 میں ترمیم ہوگی جس کا مقصد آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں شامل کرنا اور اسے تسلیم کرنا ہے۔
مجوزہ ترمیم میں آئینی عدالتوں کا معاملہ بھی شامل ہے، ایگزیکٹو کی مجسٹریل پاور کی ڈسٹرکٹ لیول پر ترسیل بھی مجوزہ ترمیم میں شامل ہوگی، اس کے ساتھ پورے ملک میں ایک ہی نصاب کا ہونا بھی ستائیسویں ترمیم کی تیاری میں زیر غور آنے کا امکان ہے۔ ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا بل آئندہ ہفتے منظور کیا جائیگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجولائی تا ستمبر بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 79 ارب روپے بڑھ گیا جولائی تا ستمبر بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 79 ارب روپے بڑھ گیا اسرائیلی وزیر نے نیویارک کے نومنتخب مسلم میئر کو حماس کا حامی قرار دیدیا ڈھائی لاکھ افراد جعلی شناختی کارڈ بنوانے کا انکشاف، زیادہ تر افغان شہری نکلے مسلح افواج کو سپورٹ کرنے کیلیے سرکاری اخراجات میں کمی ناگزیر ہے، وزیر خزانہ دہشتگردی کا خاتمہ: پاکستان اور افغان طالبان میں مذاکرات کل استنبول میں ہوں گے آئینی ترمیم پر مشاورت کیلئے سینیٹر فیصل واوڈا کی فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: صوبائی خودمختاری پر آئینی ترمیم کی پر ڈاکا ہے وزیر اعلی
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔