افغان حکومت امن کیلیے دانش مندی سے فیصلے کرے، وزیر دفاع کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے دانش مندی سے فیصلے کرے، ساتھ ہی واضح کیا کہ پاک افغان مذاکرات اسی وقت کیے جاتے ہیں جب پیش رفت کے امکانات موجود ہوں۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ فی الحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مذاکرات میں کیا بحث ہو رہی ہے، کچھ اعتراضات سامنے آئے ہیں، اس لیے اس وقت تبصرہ کرنا مناسب نہیں، پاکستانی وفد استنبول روانہ ہو چکا ہے جہاں کل سے مذاکرات کا آغاز ہوگا، اگر بات چیت میں پیش رفت کی امید نظر آئے تو مذاکرات جاری رکھے جاتے ہیں، ورنہ وہ وقت کا ضیاع ثابت ہوتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان کو خطے کے امن کے لیے مثبت اور سنجیدہ رویہ اپنانا ہوگا تاکہ پائیدار استحکام کی راہ ہموار ہو سکے، 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق پیش رفت اگلے ہفتے سامنے آجائے گی،تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے، اور مشاورت مکمل ہونے کے بعد ترمیم کی حتمی شکل پیش کی جائے گی۔
وزیر دفاع نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سنجیدہ ہے اور افغانستان سے تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہے، تاہم اس کے لیے دونوں جانب دانش مندی اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔