اختیار ولی کے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں: مینا خان
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
وزیر خیبر پختونخوا مینا خان نے اختیار ولی کے سہیل آفریدی پر لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مینا خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ن لیگی رہنما کی جانب سے وزیراعلیٰ کے خلاف ہرزہ سرائی کی، سہیل آفریدی کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ 9 مئی کو سہیل آفریدی پشاور میں تھے، الزامات بے بنیاد ہے، سہیل آفریدی کی جو ویڈیو کل نشر کی گئی وہ دراصل 16 مارچ 2023 کی ہے، اور اس کا 9 مئی کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ کابینہ کے پہلے اجلاس میں ریڈیو پاکستان واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی منظوری دی جائے گی تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں،ریڈیو پاکستان میں کیا ہوا اور کس نے کیا۔مینا خان نے کہا کہ ن لیگ میں اختیار ولی کی کوئی اہمیت نہیں، خود کو نمایاں کر رہے ہیں، جن لوگوں نے ہماری نشستیں چھینی تھیں، وہ اب سہیل آفریدی کی کامیابی برداشت نہیں کر پا رہے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ تمام سیاسی حربے ناکام ہوچکے ہیں، سہیل آفریدی آئینی طور پر وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں مگر اُن کے خلاف ایک من گھڑت بیانیہ تیار کیا جا رہا ہے تاکہ اُن کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔