شمال مشرقی بھارت میں علیحدگی پسند تحریکوں کا زور بڑھنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں ناگالینڈ، منی پور اور آسام میں آزادی کی تحریکوں نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے۔ ان علاقوں میں علیحدگی پسند گروہوں نے بھارتی افواج کے مظالم اور دہلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت تیز کر دی ہے۔
ناگالینڈ نیشنلسٹ موومنٹ کے سربراہ تھونگالینگ میووہ نے اپنے تازہ بیان میں واضح کیا کہ ان کی آزادی کی جدوجہد کسی صورت نہیں رکے گی۔ انہوں نے بھارتی حکومت اور فوج کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعظم مودی تصادم چاہتے ہیں تو وہ تیار ہیں، کیونکہ ناگا عوام کسی قیمت پر بھارت کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔
ان کے مطابق بھارتی افواج ریاست میں عوام پر منظم ظلم و ستم کر رہی ہیں جبکہ دہلی حکومت جان بوجھ کر ناگالینڈ کی شناخت، ثقافت اور خودمختاری کو مٹانے کے اقدامات کر رہی ہے۔
ادھر منی پور اور آسام میں بھی علیحدگی پسند گروہوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ مقامی تنظیمیں نئی دہلی کے تسلط کے خلاف متحد ہو رہی ہیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کر رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق متعدد علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت طویل عرصے سے مقبوضہ کشمیر، جوناگڑھ، ناگالینڈ اور دیگر خطوں پر غیر قانونی قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ ان علاقوں میں دہائیوں سے آزادی کی تحریکیں جاری ہیں، تاہم مودی حکومت ان آوازوں کو دبانے کے لیے فوجی طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شمال مشرقی ریاستوں میں بڑھتی مزاحمت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی اندرونی وحدت پہلے سے زیادہ کمزور ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کر رہی
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔