Jasarat News:
2026-06-02@23:47:33 GMT

سڈنی حملے سے جوڑنے پر بے گناہ پاکستانی منظر عام پر آگیا

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251215-01-7
سڈنی(مانیٹرنگ ڈیسک) سڈنی کے ساحل بونڈی میں ہونے والے حملے میں گرفتار حملہ آور کے حوالے سے ہونے والے پروپیگنڈے پر پاکستانی نوجوان نوید اکرم منظر عام پر آگیا۔سڈنی میں مقیم نوید اکرم کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے، انہیں مختلف بھارتی، افغان اور اسرائیلی میڈیا چلینز نے بونڈی سے گرفتار دہشت گرد سے جوڑا تھا۔نوید اکرم سے متعلق بالخصوص بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور نیوز چینلز پر گرفتار حملہ ا?ور کی جگہ پاکستانی نوجوان کی تصاویر دکھائی گئیں۔سڈنی میں مقیم نوید اکرم نے سوشل میڈیا پر ہونے والے پروپیگنڈے پر جواب دیتے ہوئے اپنا ویڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے بونٹی میں ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔نوید اکرم نے بونڈی حملے میں گرفتاری سے متعلق اپنی تصاویر استعمال کرنے پر میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس حرکت کی وجہ سے اْن کی زندگی خطرے میں پڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی مجھے گرفتار کیا گیا ہے۔ نوید اکرم نے میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ وہ تصدیق کے بعد تصویر چلائیں۔پاکستانی نوجوان نے کہا کہ بونڈی حملے میں گرفتار ہونے والے حملہ ا?ور کی شناخت نوید اکرم کے نام سے ہوئی جس کے بعد میرے فیس بک اکاؤنٹ سے تصاویر اٹھا کر چلائی جارہی ہیں، اس پروپیگنڈے کو میں مکمل طور پر مسترد کرتا ہوں۔

اسرائیلی،بھارتی اور افغان میڈیا کی سڈنی فائرنگ کے حملہ آور کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی سازش کو آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی شہری شیخ نویدبے نقاب کررہے ہیں

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا ہونے والے نوید اکرم حملہ ا ور

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار