سڈنی حملے سے جوڑنے پر بے گناہ پاکستانی منظر عام پر آگیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251215-01-7
سڈنی(مانیٹرنگ ڈیسک) سڈنی کے ساحل بونڈی میں ہونے والے حملے میں گرفتار حملہ آور کے حوالے سے ہونے والے پروپیگنڈے پر پاکستانی نوجوان نوید اکرم منظر عام پر آگیا۔سڈنی میں مقیم نوید اکرم کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے، انہیں مختلف بھارتی، افغان اور اسرائیلی میڈیا چلینز نے بونڈی سے گرفتار دہشت گرد سے جوڑا تھا۔نوید اکرم سے متعلق بالخصوص بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور نیوز چینلز پر گرفتار حملہ ا?ور کی جگہ پاکستانی نوجوان کی تصاویر دکھائی گئیں۔سڈنی میں مقیم نوید اکرم نے سوشل میڈیا پر ہونے والے پروپیگنڈے پر جواب دیتے ہوئے اپنا ویڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے بونٹی میں ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔نوید اکرم نے بونڈی حملے میں گرفتاری سے متعلق اپنی تصاویر استعمال کرنے پر میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس حرکت کی وجہ سے اْن کی زندگی خطرے میں پڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی مجھے گرفتار کیا گیا ہے۔ نوید اکرم نے میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ وہ تصدیق کے بعد تصویر چلائیں۔پاکستانی نوجوان نے کہا کہ بونڈی حملے میں گرفتار ہونے والے حملہ ا?ور کی شناخت نوید اکرم کے نام سے ہوئی جس کے بعد میرے فیس بک اکاؤنٹ سے تصاویر اٹھا کر چلائی جارہی ہیں، اس پروپیگنڈے کو میں مکمل طور پر مسترد کرتا ہوں۔
اسرائیلی،بھارتی اور افغان میڈیا کی سڈنی فائرنگ کے حملہ آور کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی سازش کو آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی شہری شیخ نویدبے نقاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا ہونے والے نوید اکرم حملہ ا ور
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔