ایران کی جانب سے سڈنی حملے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
عبرانی ذرائع کے مطابق تاحال آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں یہودی تہوار حنوکا کی تقریب پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 100 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جموہریہ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیش آنے والے پرتشدد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ تسنیم نیوز کے خارجہ امور گروپ کے مطابق ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ذاتی صفحے پر جاری ایک پیغام میں سڈنی میں ہونے والے پرتشدد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ہم آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والے پرتشدد حملے کی مذمت کرتے ہیں، انسانوں کا قتل اور دہشت گردی جہاں کہیں بھی انجام دی جائے، ناقابلِ قبول اور قابلِ مذمت ہے۔ عبرانی ذرائع کے مطابق تاحال آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں یہودی تہوار حنوکا کی تقریب پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 100 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔