کراچی، شاہراہ فیصل پر صدر تھانے کے باہر احتجاج، ٹریفک مکمل بند
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
کراچی:
کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر صدر تھانے کے باہر نامعلوم افراد کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے، جس کے باعث مرکزی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مظاہرین نے متعدد گاڑیوں پر پتھراؤ کر کے ان کے شیشے توڑ دیے جبکہ موٹرسائیکل سواروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
صورتحال کے پیش نظر عائشہ باوانی کی جانب ایئرپورٹ اور عائشہ باوانی سے آواری کی طرف جانے والی شاہراہ فیصل دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق ایف ٹی سی سے آنے والی ٹریفک کو متبادل راستے کے طور پر سی ایس ڈی کی طرف موڑا جا رہا ہے جبکہ آواری کی جانب سے آنے والی ٹریفک کو لکی اسٹار کی طرف ڈائیورٹ کیا گیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ چکے ہیں اور صورتحال کو قابو میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر اس راستے سے گریز کریں اور متبادل راستے اختیار کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔