Express News:
2026-07-23@23:52:31 GMT

اسٹاک مارکیٹ عروج پر، فیکٹریاں زوال کا شکار

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

اسلام آباد:

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے یہ سال غیر معمولی رہا ہے، جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا، جو خطے کی بیشتر منڈیوں سے کہیں بہتر کارکردگی ہے لیکن چند سو کلومیٹر شمال کی جانب فیصل آباد یا گوجرانوالہ کے صنعتی مراکز کا رخ کریں تو وہاں ایک خوفناک خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

یہ خاموشی بند پڑے کارخانوں، رکی ہوئی لومز اور ان صنعتی اسٹیٹس کی ہے جو اپنی سابقہ استعداد کے سائے بن چکے ہیں۔

2025 کے اختتام پر پاکستان ایک شدید تضاد پر مبنی، تقریباً شیزوفرینک، معاشی حقیقت پیش کر رہا ہے۔

یہ دو متوازی معیشتوں کی کہانی ہے۔ ایک طرف وہ ‘‘میکرو اسٹیبلائزیشن’’ کا بیانیہ ہے جسے اسلام آباد پیش کر رہا ہے اور جس پر عالمی مالیاتی ادارے داد دے رہے ہیں دوسری طرف ‘‘حقیقی’’ معیشت ہے، یعنی پیداوار، برآمدات اور روزگار کی معیشت، جو ناقابلِ برداشت توانائی لاگت اور جارحانہ ٹیکس پالیسیوں کے باعث وجودی بحران کا شکار ہے۔

یہ واضح خلیج ایک ناگزیر سوال کو جنم دیتی ہے اگر اسٹاک مارکیٹ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہو اور وہی فیکٹریاں جو قوم کی بنیاد ہیں بند ہوتی جا رہی ہوں، تو آخر پاکستان کی معاشی بحالی کس کے لیے ہے؟

اس تضاد کو سمجھنے کے لیے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کس کھائی کے کنارے سے واپس آیا۔ 2023 اور 2024 کے اوائل میں ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا۔

اس کے بعد آئی ایم ایف کے سخت پروگراموں کے ذریعے ہونے والا یوٹرن جس کا نقط? عروج رواں سال کے اوائل میں حاصل ہونے والا 7 ارب ڈالر کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام ہے ،کم از کم کاغذوں میں قابلِ ذکر ضرور ہے۔

حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط پر سختی سے عمل کیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، جسے اب خاصی خودمختاری حاصل ہے، نے طلب کو دبا کر مہنگائی پر قابو پایا اور اسے دوہرے ہندسوں سے گھٹا کر 5 فیصد سے بھی کم کر دیا۔

آئی ایم ایف کی قسطوں نے زرمبادلہ کی منڈیوں میں اعتماد بحال کیا اور روپے کو استحکام ملا۔پیداوار کے مواقع سے محروم سرمایہ کاروں نے، یہ سمجھتے ہوئے کہ فوری تباہی کا خطرہ ٹل چکا ہے، حصص بازار کا رخ کیا۔

پی ایس ایکس میں تیزی بنیادی طور پر لیکویڈیٹی پر مبنی ہے، جسے مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے جمود کا شکار رئیل اسٹیٹ اور کم منافع دینے والے بینک ڈپازٹس سے نکل کر اسٹاک مارکیٹ کی طرف منتقلی نے ہوا دی۔

مگر فیکٹری فلور سے نظر آنے والا منظر یہ بتاتا ہے کہ مریض کو بچانے کے لیے اس کے بازوؤں اور ٹانگوں کو خون کی فراہمی بند کر دی گئی ہے۔ حقیقی معیشت خاص طور پر برآمدات پر مبنی بڑے پیمانے کی صنعت، تیزی سے تباہ ہو رہی ہے۔

ٹیکسٹائل صنعت، جو پاکستان کی نصف سے زائد برآمدات اور لاکھوں ملازمتوں کا ذریعہ ہے، شدید بحران کا شکار ہے۔ 2025 کے اواخر میں صنعتی بجلی کے نرخ 12 سے 14 سینٹ فی کلوواٹ آور کے درمیان ہیں، جبکہ بنگلہ دیش، ویتنام اور بھارت جیسے علاقائی حریف ممالک میں یہی نرخ 6 سے 9 سینٹ کے درمیان ہیں۔

ٹیکسٹائل جیسی کم منافع اور زیادہ حجم والی صنعت کے لیے یہ فرق مسابقتی نقصان نہیں بلکہ موت کا پروانہ ہے۔یہ بحران صرف بڑے صنعتکاروں تک محدود نہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، بھی اسی دباؤ کا شکار ہیں۔

بڑے گروپس کے برعکس، ایس ایم ایز کے پاس مالی گنجائش نہیں ہوتی، اس لیے وہ خاموشی سے بند ہو جاتی ہیں۔ ان کی بندش سرخیاں نہیں بنتی، مگر یہ ملک کی کاروباری بنیاد کے کٹاؤ کی علامت ہے۔حکومت اگرچہ ترسیلاتِ زر میں اضافے کو خوش آئند قرار دیتی ہے، مگر یہ ہجرت انسانی سرمائے کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

یہ صرف مزدور نہیں جا رہے، بلکہ انجینئرز، ڈاکٹرز، اکاؤنٹنٹس اور آئی ٹی ماہرین بھی ایک سکڑتی ہوئی معیشت سے فرار ہو رہے ہیں۔ جیسے جیسے 2025 اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے، پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کی کامیابی مکمل طور پر بے معنی نہیں؛ مالیاتی استحکام ترقی کے لیے شرطِ اول ہے۔ مگر یہی ترقی نہیں۔ایسی بحالی جو اثاثہ رکھنے والوں کو تو فائدہ دے مگر فیکٹریوں کو بند کر دے، دیرپا نہیں ہو سکتی۔

ایسی معیشت جو برآمد شدہ اشیا کے بجائے برآمد شدہ افرادی قوت سے زرمبادلہ کمائے، کمزور بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔اگر یہی رجحان جاری رہا تو پاکستان ایک ایسی غیر صنعتی ریاست بن سکتا ہے جس کے میکرو اکنامک کھاتے تو درست ہوں، مگر پیداواری انجن موجود نہ ہو۔

سوال بدستور موجود ہے، کیا حکومت بین الاقوامی قرض دہندگان کو خوش کرنے والے اشاریوں کو ترجیح دے گی، یا ان مشکل مگر ضروری اصلاحات کو جو قوم کے معاشی دل کو دوبارہ دھڑکا سکتی ہیں؟ فیصلہ فوری طور پر کرنا ہوگا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسٹاک مارکیٹ کا شکار کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف