مفاہمت کے راستے پر چلیں ورنہ ندامت کے سوا کچھ نہیں ملے گا، عمران اسماعیل کا پی ٹی آئی کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پی ٹی آئی کو مزاحمت کے بجائے مفاہمت کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ نے اپنے رویے پر نظر ثانی نہ کی تو ندامت کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
کراچی میں سابق رکن قومی اسمبلی محمود مولوی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو سزا کے بعد پی ٹی آئی سمیت جو سہولت کار تھے ہوشیار ہو جائیں، ان کا بھی احتساب ہوگا۔
مزید پڑھیں: فیض حمید سے ’فیض یاب‘ ہونے والوں کے لیے اچھی خبر نہیں، محمود مولوی نے تہلکہ مچا دیا
انہوں نے فیض حمید کی سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ پاک فوج نے انتہائی طاقتور شخص کو احتساب کے عمل سے گزارا۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں ملکی ترقی کے لیے آپس کے جھگڑوں اور اختلاف کو ایک جگہ رکھ کر ساتھ چلنا پڑےگا۔
عمران اسماعیل نے کہاکہ پی ٹی آئی ہمیشہ پیپلز پارٹی سے بات نہ کرنے کا کہتی ہے، اس وقت تحریک انصاف کی جیل سے باہر موجود قیادت نااہل ہے۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ مزاحمت نہیں مفاہمت کی بات کرے، ورنہ صرف ندامت ہی ہوگی۔
عمران اسماعیل نے کہاکہ پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت بڑھی ہے، ہمیں مل کر ملک کو پیروں پر کھڑا کرنا ہے، اس وقت پاکستان کو جو عالمی سطح پر پیذیرائی مل رہی ہے پہلے نہیں ملی۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کا دنیا میں ہاتھ بھاری ہے، جبکہ بھارت گرا ہوا ہے اور سہمی ہوئی بلی کی طرح گھوم رہا ہے۔
قبل ازیں گفتگو کرتے ہوئے سابق رکن قومی اسمبلی محمود مولوی نے کہاکہ فیض حمید سے ’فیض یاب‘ ہونے والوں کے لیے اچھی خبر نہیں۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے فیض حمید سے بھرپور فائدے اٹھائے، اور اس شخص کی وجہ سے اداروں کو نقصان پہنچا، لیکن اب سب کا احتساب ہوگا۔
محمود مولوی نے کہاکہ کسی کو بھی ملک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مزید پڑھیں: جنرل فیض حمید کو سزا، کیا عمران خان بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؟
انہوں نے کہاکہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی بات ہو رہی ہے لیکن کچھ لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں جو درست نہیں، کیوں کہ پنجاب میں تو پیپلز پارٹی خود نئے صوبے کے لیے قرارداد لائی تھی۔
محمود مولوی نے کہاکہ ملک کی آبادی میں اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے نئے انتظامی یونٹس بنانا ناگزیر ہے، سندھ میں دو یا تین انتظامی یونٹس بنتے ہیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پی ٹی آئی عمران اسماعیل عمران خان محمود مولوی مشورہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی عمران اسماعیل محمود مولوی وی نیوز انہوں نے کہاکہ محمود مولوی نے عمران اسماعیل پی ٹی ا ئی فیض حمید کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔