اظہر محمود کا پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے ساتھ سفر ختم
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
اظہر محمود کا پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے ساتھ سفر اختتام پذیر ہوگیا، بطور ہیڈ کوچ ایک ہی سیریز میں ذمہ داری نبھا سکے۔
تفصیلات کے مطابق ڈالرز میں تقریبا 75 لاکھ روپے ماہانہ وصول کرنے والے اظہر محمود مہنگے ترین ملکی کوچز میں شامل تھے۔
برطانوی شہریت کے حامل سابق آل راؤنڈر کا کافی عرصے سے بورڈ کے ساتھ معاہدہ تھا۔
گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی کے دور کوچنگ میں انہیں کہا گیا کہ بطور نائب گروم ہونے پر انہیں ہیڈ کوچ بھی بنا دیا جائے گا تاہم ایسا نہ ہونے پر وہ خاصے اپ سیٹ ہوئے۔
زبانی طور پر ایک آفیشل نے انہیں ٹیسٹ کوچ بنانے کی یقین دہانی بھی کرا دی تھی لیکن اعلان نہ ہونے پر وہ فکرمند ہوگئے، معاملہ لیگل ایکشن کی جانب بھی جاتا دکھائی دیا۔
پی سی بی اگر انہیں قبل از وقت برطرف کرتا تو 6 ماہ کی تنخواہ دینا پڑتی جو کئی کروڑ روپے بنتی۔
انہوں نے انڈر19 ٹیم کے ساتھ منسلک ہونے کی پیشکش قبول نہیں کی تھی، ایسے میں جون کے اواخر میں انہیں عبوری طور پر ٹیسٹ کوچ مقرر کردیا گیا۔
اکتوبر میں جنوبی افریقا کے خلاف انہوں نے پہلی بار ذمہ داری سنبھالی، پاکستان نے پہلا ٹیسٹ 93 رنز سے جیتا جبکہ دوسرے میں 8 وکٹ سے شکست ہوئی۔
اب ان کے معاہدے میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا، یوں اظہر کا دور صرف ایک سیریز کے بعد ہی ختم ہو گیا۔ ذرائع نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نئے دورانیے میں پاکستان ٹیم کو آئندہ برس 9 میچز کھیلنے ہیں جن کا آغاز مارچ، اپریل میں بنگلہ دیش کے خلاف 2 ٹیسٹ سے ہوگا، اتنے ہی میچز جولائی، اگست میں ویسٹ انڈیز میں ہوں گے۔
اگست، ستمبر میں تین ٹیسٹ میچز کیلیے دورہ انگلینڈ طے ہے۔ سری لنکا کی ٹیم نومبر میں 2 میچز کیلیے پاکستان کی مہمان بنے گی۔
اہم مقابلوں سے قبل ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ کسے نئے ہیڈ کوچ کی ذمہ داری سونپی جائے، وہ ملکی ہوگا یا غیرملکی یہ بھی فی الحال واضح نہیں ہے، چونکہ ٹیم کا اگلا میچ تین ماہ بعد ہوگا اس لیے حکام کی ترجیحات میں یہ معاملہ شامل نہیں ہے۔
واضح رہے کہ مینٹور کی پوزیشن ختم ہونے پر مصباح الحق کو بورڈ نے ملازمت سے فارغ نہیں کیا تھا، ان کا آپشن بھی موجود ہوگا۔
ادھر اظہر محمود ان دنوں یو اے ای کی آئی ایل ٹی ٹوئنٹی میں ڈیزرٹ وائپرز کے فاسٹ بولنگ کوچ کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔