بلغاریہ کے صدر رومن رادیف آئندہ ہفتے پارلیمانی جماعتوں سے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مشاورت کا آغاز کریں گے۔

یہ اقدام ملک گیر بدعنوانی مخالف مظاہروں کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد کیا جا رہا ہے۔

رواں برس جنوری میں عنان اقتدار سنبھالنے والے وزیراعظم روزن ژیلیازکوف کی اقلیتی حکومت اس دوران عدم اعتماد کی 6 تحریکوں سے تو بچتی رہی، تاہم جمعرات کو ہونے والے سڑکوں پر نکلنے والے ہزاروں مظاہرین کے دباؤ کے باعث بالآخر ختم ہو گئی۔

صدر رادیف سب سے پہلے پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت کو حکومت سازی کے لیے مذاکرات کی دعوت دیں گے۔

اگر یہ کوشش ناکام ہوئی تو دوسری بڑی جماعت کو موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد بھی اگر حکومت تشکیل نہ پا سکی، جس کا زیادہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تو صدر نگران کابینہ مقرر کریں گے جو 2 ماہ بعد متوقع نئے انتخابات تک کام کرے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایک اور انتخاب، جو 2021 کے بعد 8واں انتخاب ہوگا، ممکنہ طور پر ایک شدید منقسم پارلیمنٹ کو جنم دے گا، جس سے سیاسی عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بلغاریہ یکم جنوری کو یورپی یونین کی مشترکہ کرنسی یورو اختیار کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یورو کے حوالے سے مہنگائی کے خدشات، جنہیں مبینہ طور پر ماسکو کی جانب سے چلائی جانے والی غلط معلوماتی مہم نے ہوا دی، عوامی جوش و خروش کو کم کر رہے ہیں۔

بلغاریہ 2007 میں یورپی یونین کا رکن بنا تھا۔

ملک کے یورو زون میں شامل ہونے کی راہ روکنے کی آخری کوشش کے طور پر روس نواز جماعت وازراژدانے نے پارلیمنٹ میں ایک مسودۂ قرارداد میں نئے بجٹ کی عدم موجودگی اور سیاسی عدم استحکام کا حوالہ دیتے ہوئے یورو زون میں شمولیت ایک سال کے لیے مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اگرچہ اس قرارداد کے منظور ہونے کے امکانات کم ہیں، تاہم ایسے اقدامات اس کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں جس میں آئندہ انتخابات تک اضافے کی توقع ہے۔

اور یہ کشیدگی بلغاریہ کے مغرب نواز رخ میں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر رادیف آئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دے سکتے ہیں۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر رادیف، مغرب نواز حکومت کی جانب سے یوکرین کی حمایت پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار اوگنیان منچیف کے مطابق بلغاریہ میں وہ سیاسی قوتیں جو کریملن کے ہمارے ملک پر اثر و رسوخ کے منصوبے کو روک سکتی ہیں، خود ملکی پالیسیوں پر باہمی اختلافات کا شکار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجٹ بلغاریہ روس نواز عدم استحکام عدم اعتماد ماسکو مہنگائی یورو زون.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلغاریہ روس نواز عدم استحکام ماسکو مہنگائی یورو زون رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن


فائل فوٹو 

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔

سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ  سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔

کراچی آپریشن میں ایسے دہشتگرد سامنے آئے جو کے ایم سی، واٹر بورڈ کے ملازم تھے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔

خالد مقبول، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں،  ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ  کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن