لاہور میں ٹریفک اصلاحات کے مثبت اثرات، 12 روز میں مہلک حادثات کی شرح میں 47 فیصد کمی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
لاہور میں موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم اور ٹریفک قوانین کے سخت نفاذ کے بعد صرف 12 روز میں مہلک حادثات کی شرح میں 47 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ٹریفک پولیس لاہور کے مطابق زیرو ٹالرنس پالیسی نے شہر میں ٹریفک ڈسپلن کو بہتر بنانے اور حادثات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور ٹریفک پولیس نے ایک دن میں 11 بچوں کو پیشہ ور بھکاریوں کے چنگل سے بچالیا
زیرو ٹالرنس پالیسی کے ثمرات نمایاںچیف ٹریفک آفیسر لاہور ڈاکٹر اطہر وحید نے بتایا کہ 12 روز سے شہر میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں حادثات کے گراف میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک ڈسپلن میں بہتری حادثات کی روک تھام کی بڑی وجہ بنی ہے۔
ڈاکٹر اطہر وحید کے مطابق قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے بغیر کسی تفریق کے کارروائی کی گئی، جس کے تحت مختلف سرکاری محکموں کی تقریباً 750 گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔
گزشتہ 12 روز میں ایک لاکھ سے زائد شہریوں کو مختلف خلاف ورزیوں پر چالان جاری کیے گئے۔
شہر بھر میں آگاہی مہم جاریسی ٹی او لاہور نے مزید بتایا کہ ٹریفک پولیس شہر بھر کے سگنلز پر میگا فونز کے ذریعے مسلسل آگاہی مہم بھی چلا رہی ہے تاکہ شہریوں میں قوانین کے احترام کا شعور پیدا ہو۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور ٹریفک پولیس نے 13 ہزار موٹرسائیکل سواروں کو شہر میں داخل ہونے سے کیوں روکا؟
ڈاکٹر اطہر وحید کے مطابق لاہور میں روڈ سیفٹی اقدامات نے مثبت نتائج دیے ہیں اور شہر میں حادثات میں واضح کمی آئی ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ سمجھیں کہ ٹریفک قوانین پر مکمل عمل ہی حادثات سے محفوظ رہنے کا واحد راستہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر اطہر وحید لاہور لاہور ٹریفک پولیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر اطہر وحید لاہور لاہور ٹریفک پولیس ڈاکٹر اطہر وحید ٹریفک پولیس حادثات کی
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.