گلگت بلتستان پولیس میں پہلی مرتبہ "کرائم سین یونٹ" قائم
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
کریم سین یونٹ پولیس ٹریننگ کالج گلگت میں قائم کی گئی ہے جہاں یونٹ کیلئے جدید آلات سے لیس تین گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ یونٹ کے پندرہ اہلکاروں کی تربیت ملک کے بہترین اداروں سے مکمل کرائی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان پولیس میں پہلی مرتبہ "کریم سین یونٹ" قائم کر دی گئی۔ آئی جی پولیس افضل محمود بٹ نے جی بی پولیس کی پہلی کرائم سین یونٹ کا فیتہ کاٹ کر افتتاح کیا۔ اس موقع پر پولیس کے دیگر حکام بھی موجود تھے۔ کریم سین یونٹ پولیس ٹریننگ کالج گلگت میں قائم کی گئی ہے جہاں یونٹ کیلئے جدید آلات سے لیس تین گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ یونٹ کے پندرہ اہلکاروں کی تربیت ملک کے بہترین اداروں سے مکمل کرائی گئی ہے۔ اس موقع پر انسپکٹر جنرل آف پولیس گلگت بلتستان نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ہم نے حال ہی میں کریم سین یونٹ قائم کی ہے۔ اس یونٹ کا مقصد یہ ہے کہ جہاں بھی کوئی کرائم واقع ہو، وہاں سے تمام ثبوت اور شواہد کو سائنٹیفک طریقے سے اکٹھا اور محفوظ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں فرانزک سائنس لیبارٹری بھی قائم کر رہے ہیں، اس کیلئے کچھ سامان خریدا گیا ہے، دیگر آلات کی خریداری کا عمل جاری ہے، اس سے ہمیں یہ فائدہ ہوگا کہ شواہد کی سائنسی بنیادوں پر تجزیہ ممکن ہو سکے گا۔ آئی جی کا کہنا تھا کہ کرائم سین یونٹ کے تحت پانچ اہلکار گلگت رینج میں تعینات ہوں گے، پانچ دیامر، پانچ بلتستان ڈویژن میں کام کرینگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کریم سین یونٹ کی گئی گئی ہے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔