میکسیکونے بھی چین،بھارت سمیت ایشائی ممالک پر 50فیصد درآمدی ٹیرف عائد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میکسیکو سٹی: امریکا کے بعد میکسیکو نے بھی چین، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک سے آنے والی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد تک درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا۔ میکسیکو کے اس اقدام سے بھارت کی ایک ارب ڈالر کی برآمدات متاثر ہوں گی۔ صدر کلاؤڈیا شائن باؤم نے مقامی صنعت کے تحفظ کے لیے ضروری ٹیرف کو ضروری قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق میکسیکو نے ان ممالک سے درآمد کی جانے والی متعدد اشیا پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے جن کے ساتھ اس کا کوئی تجارتی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ ان ممالک میں بھارت، چین، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا شامل ہیں۔
میکسیکو کی حکومت کے مطابق یہ ڈیوٹیز ملکی صنعت اور مقامی پیداوار کو تحفظ دینے کے لیے نافذ کی جا رہی ہیں اور ان کا اطلاق یکم جنوری 2026 سے ہوگا۔ اس سے قبل امریکا نے بھی مختلف ممالک کی درآمدات پر ڈیوٹیز عائد کی تھیں۔
میکسیکو کی جانب سے جن مصنوعات پر ٹیرف عائد کیا گیا ہے اس میں آٹو پارٹس، چھوٹی گاڑیاں، کپڑا، پلاسٹک، اسٹیل، گھریلو آلات، کھلونے، ٹیکسٹائل، فرنیچر، جوتے، لیدر مصنوعات، کاغذ، موٹرسائیکلیں، ایلومینیم، ٹریلرز، شیشہ، صابن، پرفیوم اور کاسمیٹکس شامل ہیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق میکسیکو کے اس اقدام کا مقصد خاص طور پر چین سے درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔ چین نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے میکسیکو سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ چین سے میکسیکو کی درآمدات 2024 میں 130 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹیرف عائد
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :