نیب و اینٹی کرپشن مؤثر ہوں تو محتسب کے بوجھ میں کمی آئے: اعجاز قریشی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
پشاور: (نیوزڈیسک) وفاقی محتسب اعجاز قریشی نے کہا کہ نیب اوراینٹی کرپشن مؤثر ہوں تو محتسب کے بوجھ میں کمی آئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی محتسب اعجاز قریشی کا کہنا تھا کہ ادارے کی کارکردگی بہتر ہے، مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ سے زائد شکایات موصول ہوئیں، گزشتہ سال 2 لاکھ 26 ہزار شکایات درج ہوئیں۔
اعجاز قریشی نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں نئے دفاتر قائم کئے گئے، گھر بیٹھے عوام کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ڈھائی لاکھ شکایات عدالتوں میں جاتیں تو خرچہ اور وقت زیادہ لگتا۔
وفاقی محتسب نے کہا کہ عدالتوں میں ایک کیس جانےسے متاثرہ فریق مزید مشکلات میں پڑ جاتا ہے، جرگہ سسٹم کے تحت بھی متعدد فیصلے کئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ چار دفاتر سے بڑھ کر 26 دفاتر قائم ہوگئے، ماہانہ کیسز 60 سے بڑھ کر 200 سے زائد ہوگئے، 95 فیصد کیسز پرعمل درآمد مکمل ہوچکا ہے۔
اعجاز قریشی کا کہنا تھا کہ واپڈا کی 12 ڈسٹری بیوشنز میں کیسز ہائی کورٹ چلے جاتے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کی ایک لاکھ سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔
وفاقی محتسب نے کہا کہ 600 سے 700 بچوں کے لئے خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وفاقی محتسب نے کہا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔