حکومتی زرعی پالیسی مکمل طورپر ناکام ہو چکی ‘ کسان بورڈپاکستان
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-08-13
فیصل آباد(صباح نیوز) کسان بورڈپاکستان کے مرکزی صدرسردارظفرحسین خاں نے کہاہے کہ کھاد،بجلی،تیل کی بڑھتی قیمتیں اور زرعی اجناس کپاس، چاول، سبزیات اور پھلوں کی کم ہوتی قیمتوں نے زرعی معیشت کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔ حکومت کی زرعی
پالیسی مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے۔حکومت شوگر آرڈیننس میں مل مالکان کے تحفظ کی بجائے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرے۔جاعی بیان میںانہوںنے مطالبہ کیاکہ حکومت کسانوں کو موجود بحران سے نکالنے کے لئے فوری طور پرحکومت شوگر آرڈینس میں کسان دشمن قوانین کو ختم کرے اور شوگر ملزکی طرف کسانوںکو گنے کے اربوں روپے کے واجبات دلوائیں جائیں۔ گندم،گنا،تمباکو، چاول،مکئی سمیت تمام اجناس کی سپورٹ پرائس کا اعلان کرکے کسانوں کو ان قیمتوں کا حصول یقینی بنایاجائے۔پھلوں سمیت تمام زرعی اجناس کی امدادی قیمتوں کا اعلان فصل کی بوائی کے وقت سے پہلے کیا جائے اور اگر اجناس کی قیمتیں کم ہوں تو حکومت ان کے خریدنے کا اہتمام کرے۔ کسانوںکو زرعی مقاصد کیلئے سستی بجلی فراہم کی جائے۔کسانوں کو بلاسود قرضے دیے جائیں۔بلوچستان،سندھ سمیت تمام صوبوں میں نہری پانی کی کمی کو دور کرنے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور واٹر ایمرجنسی نافذ کرکے دریاوں پر انڈین آبی دہشت گردی کی روک تھام کی جائے۔زرعی پالیسی اور بجٹ کسان تنظیموں اور زرعی ماہرین کے مشورے سے بنایا جائے۔انہوںنے کہاکہ زراعت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے،کسانوںکواحتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔زراعت ختم ہوگئی تو ملک میں خوراک کابحران پیداہوجائے گاجس کاخمیازہ پوری قوم کو بھگتناپڑے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک