7 روزہ قومی پولیو مہم 15 تا 21 دسمبر جاری رہے گی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-01-10
اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان انسداد پولیو پروگرام نے اس سال کی پانچویں اور آخری قومی پولیو مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے پیدا ہونے والی معذوری سے بچانا اور محفوظ بنانا ہے۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے
پولیو کے خاتمے کے لیے قائم نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نیشنل ای او سی کوآرڈینیٹر محمد انوار الحق کے بیٹے سمیت بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے اور پاکستان اور دنیا بھر کے ہر بچے کو پولیو کے عالمی و علاقائی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ سات روزہ قومی پولیو مہم 15 تا 21 دسمبر جاری رہے گی، جس کے دوران 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے دو قطرے پلائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔