وزیراعظم کا ٹیکس نیٹ میں توسیع اور محصولات کے ہدف کے حصول کے لیے ہدایات
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ٹیکس محصولات کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کیا جائے۔
اسلام آباد میں ایف بی آر سے متعلق امور پر منعقدہ ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 11 فیصد کے ہدف کے حصول کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت دی۔
وزیراعظم نے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کسٹمز کلیئرنس کے وقت میں نمایاں کمی پر ایف بی آر حکام کی کارکردگی کو سراہا اور ہدایت کی کہ درآمدات و برآمدات کی کلیئرنس کا دورانیہ مزید کم کیا جائے۔
وزیراعظم نے معیشت کے تمام شعبوں میں ٹیکس نفاذ کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ حکومتی آمدن میں اضافہ ہو سکے۔
شہباز شریف نے غیرقانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف مؤثر کارروائی پر ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو ایف بی آر کے ساتھ ٹیکس چوروں اور غیرقانونی فیکٹریوں کے خلاف کارروائیوں میں مکمل تعاون کی ہدایت بھی کی۔ ساتھ ہی انہوں نے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے پر زور دیا۔
اجلاس میں وزیراعظم کو محصولات کے اہداف کے حصول، معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن، اور ٹیکس چوری کے خلاف اقدامات سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔
حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں تمباکو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے ایف بی آر اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے متعدد فوکل پرسنز تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں غیرقانونی سگریٹس کی بڑی مقدار ضبط کی گئی ہے، جو مؤثر کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم کو مختلف اداروں اور ٹریبونلز میں زیر التوا ٹیکس مقدمات پر ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اشتہار
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایف بی آر کے حصول کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔