سوڈان: 50 لاکھ بےگھر بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات انتہائی ناگزیر ہیں، یونیسف
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یونیسف نے سوڈان کے بے گھر 50 لاکھ بچوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات ناگزیر قرار دے دیے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سوڈان میں دارفور اور کورڈوفان کے بعض علاقوں میں قحط کی صورتحال کا سامنا ہے، یونیسف نے بتایا کہ اندازے کے مطابق سوڈان میں بے گھر افراد کی تعداد 1 کروڑ سے زائد ہو گئی ہے جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ادارے نے کہا کہ محصور اور مشکل رسائی والے علاقوں میں پھنسے بچوں تک خوراک، پانی اور ادویات پہنچانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، نئی جگہوں پر پہنچنے والے زیادہ تر بچے شدید کمزوری، پانی کی کمی اور صدمے کی حالت میں ہوتے ہیں اور انہیں فوری طبی، غذائی اور حفاظتی امداد درکار ہوتی ہے۔
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ سوڈان کے بچے مستقل تشدد، بھوک اور خوف میں جی رہے ہیں، خواتین اور لڑکیاں اس بحران کا سب سے زیادہ نشانہ ہیں اور انہیں جنسی تشدد کے سنگین خطرات کا سامنا ہے لہٰذا انہیں تحفظ،خدمات اور عالمی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے دورہ سوڈان کے دوران کَسّالہ میں یونیسف کے معاونت یافتہ مرکز پر خواتین اور نوعمر لڑکیوں سے ملاقات کی جو نفسیاتی مدد اور ہنر سیکھنے کی تربیت حاصل کر رہی تھیں، ان میں سے بہت سی لڑکیاں تشدد سے بچ کر اس مرکز تک پہنچی ہیں مگر دارفور اور کورڈوفان میں جاری عدم تحفظ کے باعث ایسی خدمات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔