پنجاب ڈیولپمنٹ پلان، صوبے کے 52 شہروں میں ترقی کا بڑا منصوبہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبے کے 52 شہروں کے لیے شروع کیے جانے والے پنجاب ڈیولپمنٹ پلان میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ صوبے میں سیوریج، ڈرینج، سڑکوں، پارکس اور شہری انفراسٹرکچر کی ازسرِ نو تعمیر و بحالی کے لیے 304 ارب روپے مالیت کے پہلے مرحلے کے منصوبوں پر کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
وزیراعلیٰ کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس میں منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں ٹینڈرز، تعمیراتی ٹائم لائنز، منصوبوں کی لاگت اور گراؤنڈ بریکنگ شیڈول پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے وزیر اعلیٰ پنجاب کی سود سے پاک بائیک اسکیم: طلبا کے لیے خصوصی لاٹری پرائز مہم کا آغاز
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کے تمام شہروں میں یکساں ترقی کو یقینی بنایا جائے گا اور سب سے زیادہ خستہ حال اور متاثرہ علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر تعمیر و مرمت فراہم کی جائے گی۔
52 شہروں میں منصوبوں کا آغاز 19 دسمبر 2025 سےمحکمہ بلدیات کے مطابق پنجاب ڈیولپمنٹ پلان کے تحت 50 ٹینڈرز فلوٹ کیے جا چکے ہیں جبکہ 10 ٹینڈرز مکمل ہو چکے ہیں۔ منصوبوں پر عملی کام کا آغاز 19 دسمبر 2025 سے ہوگا اور زیادہ تر ترقیاتی حکمتِ عملی کی تکمیل کی حتمی تاریخ 30 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔
166 ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری، 53 ارب کے 10 اہم پراجیکٹس گراؤنڈ بریکنگ کے لیے تیار304 ارب روپے کے پہلے مرحلے میں سے 166 ارب روپے کے منصوبوں کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے جبکہ 53.
پنجاب ڈیولپمنٹ پلان کے مطابق صوبے بھر میں شہری انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے 3,497 کلومیٹر طویل سیوریج لائنیں بچھائی یا اپ ،گریڈ کی جائیں گی 181 کلومیٹر ڈرینج سسٹم تعمیر یا بحال کیا جائے گا، 56 نئے ڈسپوزل اسٹیشن قائم کیے جائیں گے، 61 ڈسپوزل اسٹیشنوں کی تعمیر و مرمت کے بعد نکاسی آب کی مجموعی گنجائش 2114 کیوسک تک بڑھا دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب کو محفوظ ترین صوبہ بناؤں گی، مریم نواز کا تعلیمی اداروں کے باہر کیمرے نصب کرنے کا حکم
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خصوصی ہدایت کی کہ تمام نکاسی آب سے متعلق منصوبے مون سون سے قبل مکمل کیے جائیں تاکہ شہری علاقوں کو بارشوں کے دوران مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مزید 43 شہروں میں ترقیاتی منصوبوں کا دائرہپہلے مرحلے کے علاوہ، 43 مزید شہروں میں بھی 304 ارب روپے کی لاگت سے گلیوں کی تعمیر، پارکس کی بحالی، نئی سڑکوں کی تعمیر، سیوریج و ڈرینج نظام کی بہتری پر بڑے پیمانے پر کام کیا جائے گا۔
یکساں ترقی کا ویژنوزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس میں واضح کیا کہ پنجاب کے ہر شہر اور ہر بستی میں ترقی کا کوئی فرق نہیں رکھا جائے گا اور عوامی سہولیات کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے 30 جون 2026 تک 52 شہروں میں ترقی کے ’نئے چراغ‘ جلانے کا ہدف بھی مقرر کر دیا۔
پنجاب ڈیولپمنٹ پلان کو صوبے میں شہری سہولیات کی بہتری اور انفراسٹرکچر کے جدید معیار کی طرف اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب ڈیولپمنٹ پلان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب ڈیولپمنٹ پلان وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف پنجاب ڈیولپمنٹ پلان مریم نواز شریف ارب روپے جائے گا کے لیے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔