اسلام آباد:

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی ) سروے 2025  کے مطابق  پاکستان میں کاروباری اعتماد 7 سال کی بلند ترین سطح پر آگیا۔

او آئی سی سی آئی پاکستان میں 200 سے زائد بین الاقوامی کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے جو ملکی معیشت کے 13 سے زائد اہم شعبوں میں سرگرم ہیں۔

ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے حاصل معاشی استحکام اور بڑھتا ہوا کاروباری اعتماد پاکستان کو ترقی کے نئے مراحل میں داخل کر رہا ہے۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی ) کے سروے 2025 کے مطابق پاکستان میں کاروباری اعتماد 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، بزنس کانفیڈنس انڈیکس11پوائنٹس سے بڑھ کر 22 فیصد تک ہو گیا۔

 سروے رپورٹ کے مطابق سروسز سیکٹر 24 فیصد اضافہ کے ساتھ سرفہرست، ریٹیل اور مینوفیکچرنگ کے شعبہ جات میں  بھی بہتری ریکارڈ ہوئی ہے۔

 بڑے شہروں میں کاروباری  اعتماد 14 فیصد سے 23 فیصد تک جبکہ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں منفی  3 فیصد سے 19 فیصد تک بڑھا ہے۔

او آئی سی سی آئی کے اراکین نے حالیہ سروے میں کاروباری اعتماد میں 17 فیصد سے27 فیصد  تک اضافہ رپورٹ کیا، سرمایہ کاری کے انڈیکس میں منفی چار  سے 12 فیصد تک کا اضافہ ہوا جو پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے مثبت رجحان کا عندیہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے آرڈرز 26 فیصد سے بڑھ کر 41 فیصد تک پہنچ گئے، جبکہ نئی ملازمتوں کے انڈیکس میں 16 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

او آئی سی سی آئی  کے صدر یوسف حسین نے ان نتائج کو اعتماد میں مثبت تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کاروباری توسیع اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی کو مزید تقویت دے رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں کاروباری میں کاروباری اعتماد او ا ئی سی سی ا ئی کے مطابق فیصد سے فیصد تک

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا