پاکستان کو شدید آبی بحران کا سامنا، 80 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
ایشیائی ترقیاتی بینک اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کو شدید آبی بحران کا سامنا اور 80 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے،زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال سے زہریلا آرسینک پھیل رہا ہے اور پانی کی فی کس دستیابی 3500 سے کم ہو کر 1100 مکعب میٹر رہ گئی۔
ایشین واٹر ڈیولپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ 2025 میں بینک نے کہا کہ بڑھتی آبادی، ماحولیاتی تبدیلی اور ناقص مینجمنٹ سے پانی کا بحران بڑھ رہا، واٹر سیکیورٹی کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، پاکستان میں پالیسیاں مضبوط مگر عملدرآمد کمزور ہے۔
رپورٹ کے مطابق زرعی شعبہ سب سے زیادہ پانی ضائع کر رہا، آبی ذخائر کی بہتری کیلیے موجودہ سرمایہ کاری ناکافی، آئندہ عشرہ میں 10 سے 12 ٹریلین روپے درکار ہیں، جبکہ پائیدار ترقی کے اہداف پورنے کرنے کیلئے سالانہ 12 ارب ڈالر درکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اربن فلڈنگ اورگندے پانی کا اخراج بڑے چیلنج ہیں، شہری انفرا اسٹرکچر کمزور اور گندا پانی بغیر ٹریٹمنٹ خارج ہوتا ہے، صنعتی شعبہ زیرزمین پانی پر انحصار کرتا ہے۔
پانی ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت کے باعث دریاؤں اور ویٹ لینڈز پر دباؤ ہے، پاکستان کاواٹر سکیورٹی سکور 2013 سے2025 کے دوران 6.
رپورٹ میں پانی کے معیار کی نگرانی کیلئے آزاد اتھارٹی کی سفارش اور خبردار کیا گیا ہے کہ طرز حکمرانی بہتر نہ ہوئی تو ترقی غیر مساوی رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق ایشیا میں واٹر سکیورٹی کیلئے 250 ارب ڈالر درکار ہیں، ایشیا دنیا کے41 فیصد سیلابوں کا مرکز ہے، پانی و صفائی کے منصوبوں پر اخراجات ضرورت کا 40 فیصد، سالانہ 150 ارب ڈالر فنڈنگ کا خلا واٹر سکیورٹی کیلئے خطرہ ہے، 2040 تک ایشیا میں پانی کے نظام کیلئے40 کھرب ڈالر درکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا خوراک کے سنگین بحران کے دہانے پر ہے، 2050 تک عالمی آبادی10ارب اور خوراک کی طلب میں 50 فیصد اضافہ متوقع ہے، اسے پورا کرنے کیلئے موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت پر قابو پانے کیساتھ زرعی نظام کی مکمل تبدیلی ناگزیر ہے، ماضی میں سبز انقلاب نے دنیا کو قحط سے بچایا مگر سنگین ماحولیاتی اثرات مرتب کئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق درکار ہیں
پڑھیں:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔
اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔
مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔
مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔
مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔