مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2026 GMT
ویب ڈیسک :پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نےآئندہ مالی سال کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی۔
اس حوالے سے پائیڈ نے شواہد پر مبنی فریم ورک تجویز کردیا جس کے تحت مالی سال 2026-27 کے لیے قومی سطح پر کم از کم اجرت 45000 روپے ماہانہ مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پائیڈ نے موجودہ کم از کم اجرت 40000 روپے کے مقابلے آئندہ مالی سال کیلئے 12.
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق کم از کم اجرت کی پالیسی اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ گھریلو قوتِ خرید، غربت کے خدشات ، غیر رسمی روزگار، مقامی طلب، پیداواری ترغیبات اور مجموعی سماجی استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نئی کاواساکی موٹرسائیکل نےدھوم مچا دی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے جولائی تا اپریل عرصے میں اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی اور اپریل 2026 میں سال بہ سال افراطِ زر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مالی سال
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔