عالمی اور ملکی اہم خبریں
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بلوچستان میں چمن کی سرحد پر پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان جمعے کی رات فائرنگ کے تبادلے کے بعد حالات کشیدہ ہیں، جس کے نتیجے میں افغان حکام کے مطابق ان کے چار شہری جان سے گئے جبکہ چمن میں طبی حکام کے مطابق تین افراد زخمی ہوئے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق دونوں جانب سے گزشتہ 2ماہ سے جاری نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جھڑپ شروع کرنے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا گیا۔ کابل اور اسلام آباد کے درمیان سرحدی کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے ہونے والی بات چیت نومبر میں ختم ہوگئی تھی لیکن اکتوبر میں قطر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی زیادہ تر برقرار رہی ہے۔
ایک مقامی پاکستانی پولیس اہلکار محمد صادق نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ افغانستان کی جانب سے شروع ہوئی اور پاکستانی دستوں نے چمن کی سرحدی گزرگاہ کے قریب جوابی فائرنگ کی، جو ایک اہم تجارتی راستہ ۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے غیر ملکی میڈیا کے لیے ترجمان مشرف زیدی نے قبل ازیں ایکس پوسٹ پر بتایا کہ افغان طالبان حکومت نے چمن سرحد کے ساتھ بلا اشتعال فائرنگ کی، جس کا ہماری مسلح افواج نے فوری، بھرپور اور شدت سے جواب دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فورسز مکمل طور پر چوکنا ہیں اور ملک کی علاقائی سالمیت اور شہریوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
دوسری جانب کابل میں افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام لگایا کہ فائرنگ کا آغاز پاکستان نے کیا۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’’بدقسمتی سے آج شام پاکستان نے ایک بار پھر قندھار کے ضلع سپن بولدک میں افغانستان پر حملے کیے، جس کی وجہ سے اسلامی امارت کی فورسز کو جواب دینا پڑا‘‘۔
افغان بارڈر پولیس کے ترجمان عبد اللہ فاروقی نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے پہلے سپن بولدک کے سرحدی علاقے میں افغانستان کی جانب دستی بم پھینکا، جس کے بعد جواب دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان جنگ بندی پر قائم ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرحد کی افغان جانب رہنے والوں نے بتایا فائرنگ کا تبادلہ رات کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے 10 بجے شروع ہوا اور لگ بھگ 2گھنٹے جاری رہا۔
قندھار کے محکمہ اطلاعات کے سربراہ علی محمد حقمل نے بتایا کہ پاکستان فورسز نے ’ہلکے اور بھاری توپ خانے‘ سے حملہ کیا اور مارٹر گولے شہریوں گھروں پر گرے۔
اے ایف پی کے مطابق افغانستان میں ضلع سپین بولدک کے گورنر نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 4شہری جان سے گئے۔
دوسری جانب چمن میں مقامی اسپتال کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے دوران معمولی زخم آنے کے بعد 3افراد کو اسپتال لایا گیا، جنہیں طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر میں ہونے والے خونریز سرحدی تصادم کے بعد سے کشیدگی عروج پر ہے۔ ان جھڑپوں میں درجنوں فوجی، عام شہری اور مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے جب کہ دونوں اطراف سے سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔
اس تشدد کا آغاز نو اکتوبر کو افغان دارالحکومت کابل میں ہونے والے دھماکوں کے بعد ہوا، جس کی ذمہ داری طالبان حکومت نے پاکستان پر عائد کی اور اس کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔ یہ لڑائی حالیہ برسوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ہونے والی شدید ترین لڑائی تھی۔
قطر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی سے اگرچہ کشیدگی میں کچھ کمی آئی لیکن اس کے بعد استنبول میں ہونے والے امن مذاکرات بھی کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔
پاکستان اپنے ملک کے اندر ہونے والے زیادہ تر عسکریت پسند حملوں کا الزام تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر لگاتا ہے۔ اگرچہ ٹی ٹی پی افغان طالبان سے الگ گروہ ہے، لیکن وہ ان کا ساتھ قریبی اتحادی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جب سے طالبان نے 2021 میں افغانستان میں اقتدار سنبھالا ہے، ٹی ٹی پی کے بہت سے جنگجو وہاں پناہ لے چکے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوا ہے۔
پاکستان اور افغانستان میں فائرنگ کا تبادلہ اس پیش رفت کے بعد ہوا ہے جب پاکستان نے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کو چمن اور طورخم کی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے افغانستان کو امدادی سامان بھیجنے کی اجازت دے گا، جو تقریباً 2 ماہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث زیادہ تر بند رہی ہیں۔
دوسری جانب وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن چمن کی درخواست پر چمن میں جاری سرحدی جھڑپوں کے تناظر میں پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے پانچ ایمبولینسیں اور ریسکیو عملے کو ضلع چمن روانہ کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو ٹیمیں، صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر اور مربوط ایمرجنسی ریسپانڈرز اگلے احکامات تک مکمل الرٹ رہیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے درمیان میں افغان ہونے والی ہونے والے کے مطابق میں ہونے کے بعد
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں