Jasarat News:
2026-06-03@02:27:10 GMT

عالمی اور ملکی اہم خبریں

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بلوچستان میں چمن کی سرحد پر پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان جمعے کی رات فائرنگ کے تبادلے کے بعد حالات کشیدہ ہیں، جس کے نتیجے میں افغان حکام کے مطابق ان کے چار شہری جان سے گئے جبکہ چمن میں طبی حکام کے مطابق تین افراد زخمی ہوئے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق دونوں جانب سے گزشتہ 2ماہ سے جاری نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جھڑپ شروع کرنے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا گیا۔ کابل اور اسلام آباد کے درمیان سرحدی کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے ہونے والی بات چیت نومبر میں ختم ہوگئی تھی لیکن اکتوبر میں قطر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی زیادہ تر برقرار رہی ہے۔
ایک مقامی پاکستانی پولیس اہلکار محمد صادق نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ افغانستان کی جانب سے شروع ہوئی اور پاکستانی دستوں نے چمن کی سرحدی گزرگاہ کے قریب جوابی فائرنگ کی، جو ایک اہم تجارتی راستہ ۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے غیر ملکی میڈیا کے لیے ترجمان مشرف زیدی نے قبل ازیں ایکس پوسٹ پر بتایا کہ افغان طالبان حکومت نے چمن سرحد کے ساتھ بلا اشتعال فائرنگ کی، جس کا ہماری مسلح افواج نے فوری، بھرپور اور شدت سے جواب دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فورسز مکمل طور پر چوکنا ہیں اور ملک کی علاقائی سالمیت اور شہریوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
دوسری جانب کابل میں افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام لگایا کہ فائرنگ کا آغاز پاکستان نے کیا۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’’بدقسمتی سے آج شام پاکستان نے ایک بار پھر قندھار کے ضلع سپن بولدک میں افغانستان پر حملے کیے، جس کی وجہ سے اسلامی امارت کی فورسز کو جواب دینا پڑا‘‘۔
افغان بارڈر پولیس کے ترجمان عبد اللہ فاروقی نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے پہلے سپن بولدک کے سرحدی علاقے میں افغانستان کی جانب دستی بم پھینکا، جس کے بعد جواب دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان جنگ بندی پر قائم ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرحد کی افغان جانب رہنے والوں نے بتایا فائرنگ کا تبادلہ رات کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے 10 بجے شروع ہوا اور لگ بھگ 2گھنٹے جاری رہا۔
قندھار کے محکمہ اطلاعات کے سربراہ علی محمد حقمل نے بتایا کہ پاکستان فورسز نے ’ہلکے اور بھاری توپ خانے‘ سے حملہ کیا اور مارٹر گولے شہریوں گھروں پر گرے۔
اے ایف پی کے مطابق افغانستان میں ضلع سپین بولدک کے گورنر نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 4شہری جان سے گئے۔
دوسری جانب چمن میں مقامی اسپتال کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے دوران معمولی زخم آنے کے بعد 3افراد کو اسپتال لایا گیا، جنہیں طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر میں ہونے والے خونریز سرحدی تصادم کے بعد سے کشیدگی عروج پر ہے۔ ان جھڑپوں میں درجنوں فوجی، عام شہری اور مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے جب کہ دونوں اطراف سے سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔
اس تشدد کا آغاز نو اکتوبر کو افغان دارالحکومت کابل میں ہونے والے دھماکوں کے بعد ہوا، جس کی ذمہ داری طالبان حکومت نے پاکستان پر عائد کی اور اس کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔ یہ لڑائی حالیہ برسوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ہونے والی شدید ترین لڑائی تھی۔
قطر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی سے اگرچہ کشیدگی میں کچھ کمی آئی لیکن اس کے بعد استنبول میں ہونے والے امن مذاکرات بھی کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔
پاکستان اپنے ملک کے اندر ہونے والے زیادہ تر عسکریت پسند حملوں کا الزام تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر لگاتا ہے۔ اگرچہ ٹی ٹی پی افغان طالبان سے الگ گروہ ہے، لیکن وہ ان کا ساتھ قریبی اتحادی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جب سے طالبان نے 2021 میں افغانستان میں اقتدار سنبھالا ہے، ٹی ٹی پی کے بہت سے جنگجو وہاں پناہ لے چکے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوا ہے۔
پاکستان اور افغانستان میں فائرنگ کا تبادلہ اس پیش رفت کے بعد ہوا ہے جب پاکستان نے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کو چمن اور طورخم کی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے افغانستان کو امدادی سامان بھیجنے کی اجازت دے گا، جو تقریباً 2 ماہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث زیادہ تر بند رہی ہیں۔
دوسری جانب وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن چمن کی درخواست پر چمن میں جاری سرحدی جھڑپوں کے تناظر میں پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے پانچ ایمبولینسیں اور ریسکیو عملے کو ضلع چمن روانہ کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو ٹیمیں، صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر اور مربوط ایمرجنسی ریسپانڈرز اگلے احکامات تک مکمل الرٹ رہیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

قاضی جاوید.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے درمیان میں افغان ہونے والی ہونے والے کے مطابق میں ہونے کے بعد

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی