افغانستان میں انسانی حقوق پامالی: آسٹریلیا کا سخت ردعمل، طالبان راہنماؤں پر مالی اور سفری پابندیوں کیلیے سرگرم
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق آسٹریلیا نے افغانستان میں طالبان کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایک نیا خود مختار پابندیوں کا فریم ورک نافذ کر دیا ہے جس کے تحت طالبان رہنماؤں پر براہ راست مالی اور سفری پابندیاں عائد کی جاسکیں گی۔
آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ فریم ورک افغانستان میں خواتین اور بچیوں پر بڑھتے ہوئے جبر، آزادیوں کی پامالی اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کے خلاف بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھانے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آسٹریلیا نے تین طالبان وزراء اور چیف جسٹس پر مالی پابندیاں اور سفری پابندیاں نافذ کر دی ہیں جبکہ افغانستان کو اسلحہ، جنگی مواد یا متعلقہ خدمات فراہم کرنے پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ فریم ورک اقوامِ متحدہ کی اُن فہرستوں پر بھی دباؤ میں اضافہ کرے گا جن میں پہلے سے 140 طالبان اہلکار شامل ہیں۔ آسٹریلوی حکومت نے واضح کیا کہ طالبان کے مسلسل جبر، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ دینے جیسے اقدامات خطے کیلئے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔
آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد اب تک وہ افغانستان کو 260 ملین ڈالر سے زائد کی انسانی امداد فراہم کر چکا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی خراب صورتحال پر عالمی برادری کے واضح مؤقف کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔