عادل راجہ کے گرد قانونی گھیرا مزید تنگ، برطانوی عدالت نے بڑا حکم جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
پاکستان سے فرار ہوکر برطانیہ میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے یوٹیوبر عادل راجہ کو لندن ہائی کورٹ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہائیکورٹ کے جج رچرڈ سپئیرمین نے حکمنامہ جاری کردیا جس میں عادل راجہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے جھوٹے دعوؤں پر تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر عام معافی نامہ شائع کریں اور اسے 28 دن تک ڈیلیٹ نہ کریں۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق عادل راجہ کو 50،000 پاؤنڈ یعنی ایک کڑور ستاسی لاکھ ہرجانے کی رقم اور 260,000 یورو یعنی 9 کروڑ 71 لاکھ روپے جرمانے کی رقم 22 دسمبر تک جمع کروانی ہے۔
عدالت نے عادل راجہ کو مستقبل میں تخریبی حرکات سے دور رہنے کی بھی سخت تنبیہ کی اور تخریبی اور بے بنیاد جھوٹے مواد کی وجہ سے اُن سے دفاع کا حق بھی واپس لے لیا۔
یو ٹیوبر کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود اسکی بریت کیلئے کوئی راستہ نہ نکل سکا۔ واضح رہے کہ عادل راجہ اور اس کے پیروکاروں کو لندن کی عدالتوں اور نظام انصاف پر بڑا یقین تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔