بدین ڈگری کالج میں آلوہ پانی کی فراہمی، ہزاروں بچے متاثر ہونے لگے
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بدین(نمائندہ جسارت)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج بدین میں آلودہ پانی کی فراہمی،ہزاروں بچے مضر صحت زہر آلودہ پانی پینے پر مجبور ، حکومت اور انتظامیہ کی فوری اقدامات کی اپیل ۔بدین ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز میں ضلع کی سب سے بڑے تعلیمی ادارے گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج بدین میں زیر تعلیم ہزاروں بچوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہ ہونے پر کالیج کی انتظامیہ نے کالج میں فراہم کیے جانے والے پینے کے پانی کے غیر معیاری اور انسانی صحت کے لیے خطرناک ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ سرکاری اداروں سے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔ گورنمنٹ ڈگری اسلامیہ کالج بدین کے پرنسپل پروفیسر عبدالحمید جونیجو کے مطابق پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کالج کو فراہم کیا جانے والا پانی عالمی اور قومی معیار کے مطابق محفوظ نہیں ہے، جبکہ پانی میں جراثیمی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک زیادہ پائی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانی کی (Turbidity 40 NTU) ریکارڈ کی گئی ہے، جو عالمی ادار? صحت کی مقرر کردہ حد 5 این ٹی یو سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ الکلینٹی اور بائی کاربونیٹ کی سطح بھی معمول سے کہیں بڑھ کر ہے، جو گردوں اور معدے کے امراض کا سبب بن سکتی ہے۔ پانی میں ٹوٹل کولیفورم اور ای کولی جیسے نقصان دہ جراثیم کی موجودگی بھی ثابت ہوئی ہے، جو ٹوٹی پھوٹی پائپ لائنوں اور گندے پانی کے رساؤ کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔ جبکہ ماہرین کے مطابق اس قسم کی آلودگی صاف پانی کے قومی اور بین الاقوامی معیار کی سنگین خلاف ورزی ہے، جبکہ یہ صورتحال سندھ پبلک ہیلتھ ایکٹ 2014، پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997، (WHO) اور (PSQCA) کے معیار کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کالج انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ پانی میں موجود ای کولی (E.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔