بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2026 GMT
پاور ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال جون کے دوران بجلی صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا۔
اعلامیے کے مطابق ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 20 پیسے فی یونٹ کا فائدہ حاصل ہوگا۔
پاور ڈویژن کے مطابق جون میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ریلیف کی شرح ماہانہ اضافے سے زیادہ رہی، جس کی وجہ سے صارفین کو خالص ریلیف میسر آئے گا۔
پاور ڈویژن نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار رہی اور برینٹ کروڈ آئل کی متوقع قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس صورتحال کے باوجود حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے بجلی صارفین کو بڑے اضافی مالی بوجھ سے محفوظ رکھا۔
اعلامیے کے مطابق اپریل میں بجلی کی قیمت میں ممکنہ طور پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کا خدشہ تھا، تاہم حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اس اضافے کو محدود کرکے 1.
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ محدود لوڈ مینجمنٹ، مقامی گیس کے استعمال اور فرنس آئل کے مؤثر استعمال کے ذریعے توانائی کے بحران کا مقابلہ کیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے جس سے مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا ریلیف صارفین کو ملے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ لائن لاسز میں کمی اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث صارفین کو نمایاں ریلیف فراہم ہوا، جبکہ متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی بھی صارفین کے حق میں گئی۔
پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش مشکلات کے باوجود بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بجلی صارفین پاور ڈویژن ریلیف کا اعلان عوام کو خوشخبری وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجلی صارفین پاور ڈویژن ریلیف کا اعلان عوام کو خوشخبری وی نیوز پاور ڈویژن نے روپے فی یونٹ بجلی صارفین صارفین کو کے مطابق
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں