ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2026 GMT
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کو نشانہ کے مطابق کی جانب کے بعد
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔