عادل راجہ اور شہزاد اکبر کی حوالگی کا معاملہ، محسن نقوی برطانیہ پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
ذرائع کے مطابق اس دوران وزیر داخلہ نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حکومت پاکستان کی طرف سے حوالگی کے کاغذات بھی برطانوی ہائی کمشنر کے سپرد کیے تھے۔ محسن نقوی نے کہا تھا کہ دونوں افراد پاکستان میں مطلوب ہیں، ان کو فوری پاکستان کے سپرد کیا جائے۔ وزیر داخلہ نے پروپیگنڈا کرنیوالے پاکستانی شہریوں کیخلاف ٹھوس شواہد بھی برطانوی ہائی کمشنر کو فراہم کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔ محسن نقوی نے مبینہ ریاست مخالف پروپیگنڈہ کرنیوالے میجر (ر) عادل راجہ اور شہزاد اکبر کی حوالگی کیلئے برطانوی حکام سے مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق 2 روز قبل اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی تھی، جس میں پاک برطانیہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی کے امور پر بھی بات چیت ہوئی۔
ذرائع کے مطابق اس دوران وزیر داخلہ نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حکومت پاکستان کی طرف سے حوالگی کے کاغذات بھی برطانوی ہائی کمشنر کے سپرد کیے تھے۔ محسن نقوی نے کہا تھا کہ دونوں افراد پاکستان میں مطلوب ہیں، ان کو فوری پاکستان کے سپرد کیا جائے۔ وزیر داخلہ نے پروپیگنڈا کرنیوالے پاکستانی شہریوں کیخلاف ٹھوس شواہد بھی برطانوی ہائی کمشنر کو فراہم کیے تھے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار پر پورا یقین رکھتے ہیں لیکن فیک نیوز ہر ملک کیلئے مسئلہ ہے، جس کا تدارک ضروری ہو چکا ہے۔
محسن نقوی تین دن برطانیہ میں قیام کریں گے، جہاں وہ چیئرمین پی سی بی کی حیثیت سے پی ایس ایل کے آئندہ سیزن کی لانچ کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ یہ تقریب آج لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھی برطانوی ہائی کمشنر وزیر داخلہ نے شہزاد اکبر محسن نقوی کے سپرد کیے تھے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔