وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ برطانیہ، چند پاکستانیوں کی حوالگی کے لیے مذاکرات متوقع
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی برطانیہ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ چند پاکستانیوں کی حوالگی کے معاملے پر برطانوی وزارت خارجہ کے حکام سے بات چیت کریں گے، وزیر داخلہ 3 دن کے دورے پر ہیں اور اتوار کو لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں پی ایس ایل کے آئندہ سیزن کی لانچ تقریب میں بھی شریک ہوں گے.
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اورعادل راجا کی حوالگی کا مطالبہ کردیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن نقوی کی برطانوی فارِن آفس کے حکام سے ملاقات طے ہے، جس میں چند پاکستانی شہریوں کی حوالگی پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ پاکستان کی جانب سے مطلوبہ افراد سے متعلق شواہد پہلے ہی برطانوی ہائی کمشنر کے سپرد کیے جا چکے ہیں، جبکہ برطانوی ذرائع کے مطابق یہ ڈوزیئر ابھی تک برطانیہ نہیں پہنچا۔
یاد رہے کہ 2 روز قبل اسلام آباد میں وزیر داخلہ سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی، جس میں پاک برطانیہ تعلقات، سیکیورٹی تعاون اور غیر قانونی طور پر برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی کے امور پر بات چیت ہوئی۔ اس دوران حکومت پاکستان کی جانب سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کے کاغذات بھی ہائی کمشنر کے حوالے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں شہزاد اکبر کا مرکزی کردار ثابت
اس موقع پر محسن نقوی نے گفتگو میں کہ کہا کہ وہ ’آزادی اظہار‘ کے حق کے حامی ہیں، لیکن فیک نیوز ہر ملک کے لیے مسئلہ ہے، جو لوگ باہر بیٹھ کر سوشل میڈیا کے ذریعے فیک نیوز پھیلا رہے ہیں، انہیں جلد پاکستان واپس لایا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news برطانیہ پاکستان پی ایس ایل شہزاد اکبر عدیل راجا محسن نقوی ملزمان حوالگی وزیرداخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانیہ پاکستان پی ایس ایل شہزاد اکبر عدیل راجا محسن نقوی ملزمان حوالگی وزیرداخلہ شہزاد اکبر وزیر داخلہ محسن نقوی کی حوالگی
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔