سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ آئندہ پیر سے ملک کا سورج ترقی کی طرف بڑھتا ہوا نظر آئے گا، فتنہ فساد کی سیاست اب نہیں چلے گی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر ایک اچھے اور مخلص انسان ہیں، انہوں نے سوشل میڈیا سے گھبراتے ہوئے کوشش کی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے مثبت اور نرم گوشہ اپنایا، ان کے جواب سے بانی پی ٹی آئی کی صرف میں والی تھیوری دفن ہوتی ہوئی نظر آئی۔

یہ بھی پڑھیں: ’اب ایک انچ بھی کوئی چیز برداشت نہیں کی جائےگی‘، فیصل واوڈا کا فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس کا خیرمقدم

فیصل واوڈا نے کہا کہ یہ جھگڑا اور لڑائی فوج اور تحریک انصاف کے بیچ نہیں ہے، یہ لڑائی ہے سوسائٹی کی، سیاست دانوں کی، چونکہ فوج عام طور پر جواب نہیں دیتی تو عمران خان اٹیک کرتے رہے اور بیانیہ بناتے رہے، اب ان کا بیانیہ فیل ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پختون، بلوچ، سندھی، پنجابی سب بھائی بھائی ہیں، فوج میں سب مل کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں، تو یہ جو لسانیت کا ڈراما کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کا بھی منہ کالا ہوگا، بہت سارے لوگ جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار تھے، ان میں سے کچھ نے سرینڈر کر دیا ہے، آنے والے وقت میں یہ نظر بھی آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے پیر سے پاکستان کا سورج ترقی کی طرف جاتا ہوا دیکھیں گے، نااہلی، گورنر راج، 9 مئی کیسز منطقی انجام تک پہنچیں گے، بڑے بڑے بھگوڑے شیخ اکرم جیسے لوگ جو خیبر پختونخوا میں چھپے ہوئے ہیں، جو سوشل میڈیا پر فوج کو گالیاں دے رہے ہیں، ان سب کو پٹا ڈالا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم پاس ہوچکی، 28ویں ترمیم کی بات کریں، سینیٹر فیصل واوڈا کا دعویٰ

فیصل واوڈا نے کہا کہ پی ٹی آئی والے جس حساب سے آگے بڑھیں گے، اس حساب سے ہی ڈبل ردِعمل آئے گا۔ پی ٹی آئی میں بہت اچھے لوگ بھی ہیں، شفیع جان، سہیل آفریدی، جنید اکبر، شاہد خٹک، شبلی فراز، علی محمد خان، بیرسٹر گوہر، یہ سب اچھے لوگ ہیں، ان لوگوں کو اپنی پارٹی میں بکاؤ اور مخبر لوگ نظر آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے پاکستان کی بقا، پاکستان کی فوج، اس کی سلامتی، اس کے شہدا اور سپہ سالار کے لیے کوئی غلط زبان استعمال نہیں کی۔ ان لوگوں سے ہم نے ہی کہا تھا کہ سہیل آفریدی اڈیالہ جیل اور باقی لوگ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے نہ آئیں تو بہنوں کے لیے بہتری ہوگی، یہ لوگ نہیں آئے تو بہنوں کی ملاقات کروائی گئی۔

لیکن عمران خان کے بیانیے، پاکستان کے خلاف غلاظت، سپہ سالار اور شہدا کے خلاف بیانیہ جس سے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے، ملکی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، تو اب ملاقاتیں بند۔ کوئی وکیل کیس کے علاوہ کوئی بات کرے گا تو ملاقات بند۔ عمران خان کو اس بیانیے سے کیا ملا؟ وہ خود جیل میں ہیں اور ان کے وکیل اقتدار میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں احتجاج کیا تو پارٹی پر پابندی اور کے پی میں گورنر راج، فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کو خبردار کردیا

انہوں نے کہا کہ بھارت سے جنگ کے دوران سپہ سالار نے واضح ہدایت کی کہ دشمن کی سول آبادی کو نقصان نہ پہنچے، تو ہم تو دشمن کی ماں، بیٹی کی بھی عزت کرتے ہیں۔ عمران خان کی بہنیں بھی ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں، ہم پی ٹی آئی کے ایم این ایز کی طرح بات نہیں کرتے کہ وہ کسی کی ماں، بہن خواہ وہ زندہ ہو یا مر چکی ہو، بات کرتے ہیں۔

سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ اب ڈبل ری ایکشن ہوگا، جنہوں نے فتنہ فساد برپا کیا ہے، ان کو زمین میں دفن کر دیں گے، ان کو سڑک پر پٹے ڈالیں گے، پی ٹی آئی کے سب ہی لوگ اب اندر خانے کھیلتے ہیں، مخبری کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو جو سزا سنائی گئی وہ ملکی تاریخ کی پہلی سزا تھی جو پیسے نہ لینے پر ان کو سنائی گئی۔ نواز شریف کو اس سزا سے بہت تکلیف پہنچی، اس لیے نواز شریف نے کٹہرے میں لانے والی بات کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاک فوج پاکستان پی ٹی آئی سینیٹر فیصل واوڈا ملکی سیاست.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک فوج پاکستان پی ٹی ا ئی سینیٹر فیصل واوڈا ملکی سیاست فیصل واوڈا نے کہا کہ سینیٹر فیصل واوڈا انہوں نے کہا کہ پی ٹی ا ئی کرتے ہیں آئے گا

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟