ون وے رفح کراسنگ اور ٹرمپ امن منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: دوحہ میں منعقد ہونیوالی سالانہ سفارتی کانفرنس میں ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہا کہ غزہ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کے بارے میں بات چیت جاری ہے۔ مسلمان ممالک کا مطالبہ ہے کہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد میں آزاد فلسطینی ریاست کے حوالے سے مطالبہ کو واضح انداز سے درج کیا جائے۔ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں اسرائیلی جنگی و اجرائی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور مداخلت کرے، تاکہ امن معاہدہ اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہوسکے۔ فیدان نے اس اجلاس میں کہا کہ ترکیہ غزہ میں اپنی فوج بھیجنا چاہتا ہے، تاہم اسرائیل اسکے خلاف ہے۔ سعودی عرب کی وزیر مفوضہ منال رضوان نے غزہ کو ایک الگ تھلگ بحران سمجھنے کیخلاف خبردار کیا اور زور دیا کہ یہ فلسطینیوں کی خود ارادیت کی وسیع تر جدوجہد سے الگ نہیں ہوسکتا۔ تحریر: سید اسد عباس
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ کچھ دنوں میں غزہ اور مصر کے درمیان اہم رفح کراسنگ کو فلسطینیوں کے لیے کھول دے گا۔ خبروں کے مطابق یہ یکطرفہ اووپننگ ہوگی، یعنی فلسطینی غزہ کو چھوڑ تو سکیں گے، تاہم واپس نہیں آسکیں گے۔ اسرائیلی فوجی ادارے "کوگاٹ "کے مطابق فلسطینیوں کا غزہ سے انخلاء مصر کے ساتھ ہم آہنگی، اسرائیل کی طرف سے سکیورٹی منظوری اور یورپی یونین مشن کی نگرانی میں کیا جائے گا۔ مصر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی کر رہا ہے۔ سٹیٹ انفارمیشن سروس (State Information Service) نے ایک سرکاری مصری ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ "اگر کراسنگ کھولنے کے لیے کوئی معاہدہ طے پاتا ہے، تو یہ غزہ کی پٹی میں داخل ہونے اور وہاں سے باہر نکلنے کے لیے دونوں سمتوں میں ہوگا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے عین مطابق ہوگا۔"
ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے میں کہا گیا ہے کہ "دونوں سمتوں میں رفح کراسنگ کو کھولنا اسی طریقہ کار کے تابع ہوگا، جو جنوری میں ہونے والی جنگ بندی کے معاہدے کے تحت نافذ کیا گیا تھا۔" یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رفح کراسنگ مئی 2024ء سے بند ہے۔ غزہ امن معاہدے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے والے ممالک مصر و قطر اور چھ دیگر مسلم اکثریتی ممالک نے اسرائیل کے اس بیان کردہ منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں اسرائیلی فوج کے حالیہ اعلان پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا گیا کہ "رفح کراسنگ آئندہ دنوں میں خصوصی طور پر غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کے مصر کی جانب باہر نکلنے کے لیے کھولی جائے گی۔"
ٹرمپ کے منصوبے کے تحت 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد رفح کراسنگ کو کھلنا چاہیئے تھا، تاکہ امدادی سامان غزہ پہنچایا جا سکے اور شدید زخمیوں کو علاج کے لیے مصر لے جایا جاسکے، تاہم اسرائیلی حکومت نے نہ فقط امن منصوبے کی جنگی خلاف ورزیاں کیں بلکہ اجرائی خلاف ورزیاں بھی انجام دے رہا ہے۔ جنگ بندی سے لے کر اب تک اسرائیل 600 کے قریب حملے کرچکا ہے۔ رفح کراسنگ کو فقط اس لیے نہیں کھول رہا کہ حماس نے ایک اسرائیلی قیدی کی باقیات کو واپس نہیں کیا ہے، جو ایسے علاقے میں دفن ہے، جہاں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں بے پناہ نقصان ہوا ہے۔ مسلم وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں ٹرمپ کے امن منصوبے، جسے اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توثیق حاصل ہے، اس کی تعریف کی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ یہ منصوبہ "بغیر کسی تاخیر یا رکاوٹ کے" آگے بڑھنا چاہیئے۔ وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ میں ایسے حالات پیدا کیے جائیں، جو ٹرمپ کی تجویز کردہ اتھارٹی کو غزہ میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کا موقع فراہم کرے، تاکہ یہ اتھارٹی دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری زمینہ فراہم کرے۔
دوحہ میں منعقد ہونے والی سالانہ سفارتی کانفرنس میں ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہا کہ غزہ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کے بارے میں بات چیت جاری ہے۔ مسلمان ممالک کا مطالبہ ہے کہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد میں آزاد فلسطینی ریاست کے حوالے سے مطالبہ کو واضح انداز سے درج کیا جائے۔ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں اسرائیلی جنگی و اجرائی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور مداخلت کرے، تاکہ امن معاہدہ اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہوسکے۔ فیدان نے اس اجلاس میں کہا کہ ترکیہ غزہ میں اپنی فوج بھیجنا چاہتا ہے، تاہم اسرائیل اس کے خلاف ہے۔ سعودی عرب کی وزیر مفوضہ منال رضوان نے غزہ کو ایک الگ تھلگ بحران سمجھنے کے خلاف خبردار کیا اور زور دیا کہ یہ فلسطینیوں کی خود ارادیت کی وسیع تر جدوجہد سے الگ نہیں ہوسکتا۔
درج بالا سفارتی باتوں اور خبروں سے ایک بات تو واضح طور پر ظاہر ہو رہی ہے کہ مسلمان ممالک غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کے امن منصوبے کو دل و جان سے تسلیم کرچکے ہیں، ٹرمپ کی استحکام فورس، فلسطینی اتھارٹی کو وہ اپنے درد کی دوا سمجھتے ہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ منصوبے کی تحریر میں کچھ ترامیم کی جائیں۔ اس معصومانہ خواہش پر ایک لطیفہ یاد آگیا۔ قدیم زمانے میں ایک ملک میں بادشاہ کو اپنی رعایا سے شکایت ہوئی کہ وہ کسی بات پر احتجاج نہیں کرتے۔ اسے وزراء نے مشورہ دیا کہ یہ روزانہ کام کاج کے لیے نہر پر موجود پل عبور کرکے دوسرے کنارے پر جاتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ احتجاج کریں تو آپ حکم جاری کریں کہ جو بھی پل عبور کرے گا، اسے دس جوتے کھانے ہوں گے۔ بادشاہ کو تجویز پسند آئی اور اس نے حکم جاری کر دیا۔
چند روز گزرے تو ایک روز محل کے باہر عوام کا جم غفیر جمع تھا اور چار پانچ بزرگ ان کے آگے آگے چل رہے تھے۔ بادشاہ بہت خوش ہوا کہ میری رعایا میں احساس بیدار ہوگیا ہے اور وہ اپنا حق لینے پہنچ گئے ہیں۔ بادشاہ نے ان بزرگوں کو بلوایا کہ کہو کیا کہنا چاہتے ہو۔ بزرگوں نے نہایت احترام کے ساتھ جان کی امان چاہی اور کہا کہ بادشاہ سلامت ہم روزانہ کام کاج کے لیے پل عبور کرکے نہر کے دوسرے کنارے جاتے ہیں۔ آپ کے حکم کے مطابق آپ کے سپاہی ہر فرد کو دس جوتے مارتے ہیں۔ بادشاہ نے پوچھا تو آپ کیا چاہتے ہیں، کیا یہ حکم واپس لے لوں۔؟ تو سب نے یک زبان ہوکر کہا کہ "جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ کریں، کیونکہ ہمیں کام سے دیر ہو جاتی ہے۔" مسلمان چاہتے ہیں کہ امن منصوبے میں ترامیم کر دیں، باقی منصوبہ یہی ٹھیک ہے۔ سبحان اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رفح کراسنگ کو کا اظہار کیا کے حوالے سے سے مطالبہ چاہتے ہیں دیا کہ یہ فیدان نے میں کہا کیا اور ٹرمپ کے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ