کوئٹہ، ریسٹورانٹس اور ہوٹلوں کی ٹیکس رجسٹریشن کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
حکام نے بتایا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی خصوصی ٹیمیں شہر بھر میں معائنہ کریں گی اور تمام متعلقہ کاروباری اداروں کی رجسٹریشن، دستاویزی جانچ اور PoS کے فوری نفاذ کو یقینی بنائینگی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان حکومت نے کوئٹہ شہر کے تمام ریسٹورانس اور ہوٹلوں کی ٹیکس رجسٹریشن اور پوائنٹ آف سیل سسٹمز کی تنصیب کا فیصلہ کیا ہے۔ سسٹم نصب نہ کرنے والوں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے حکام کے مطابق صوبے میں شفاف ٹیکس نظام کے فروغ اور ریونیو میں بہتری کے لیے ایک جامع مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کوئٹہ شہر کے تمام ریسٹورانس اور ہوٹلوں کی ٹیکس رجسٹریشن اور پوائنٹ آف سیل سسٹمز کی تنصیب کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس مہم کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، کاروباری معاملات میں شفافیت لانا، صوبائی محصولات میں اضافہ کرنا اور عوامی خدمات کے لیے مالی وسائل کو مضبوط بنانا ہے۔
حکام نے بتایا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی خصوصی ٹیمیں شہر بھر میں معائنہ کریں گی اور تمام متعلقہ کاروباری اداروں کی رجسٹریشن، دستاویزی جانچ اور PoS کے فوری نفاذ کو یقینی بنائیں گی۔ حکام نے بتایا کہ جو کاروباری ادارے مقررہ ضوابط کی پابندی نہیں کریں گے، رجسٹریشن یا PoS کی تنصیب میں تاخیر کریں گے یا تعاون سے گریز کریں گے، انہیں شہر میں کاروبار جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی رعایت یا استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف کاروباری ماحول بہتر ہوگا بلکہ صوبے کی مجموعی معاشی ترقی میں بھی اہم پیشرفت متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔