پاکستان تحریکِ انصاف پنجاب اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے طور پر اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا نہیں کر پا رہی، جس کی وجہ سے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کوعملی طور پر کوئی سنجیدہ چیلنج درپیش نہیں ہے۔

نہ ایوان میں ٹف ٹائم مل رہا ہے اور نہ ہی سڑکوں پر احتجاجی تحریک نظر آ رہی ہے، حالیہ ضمنی انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کو واضح شکست ہوئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں اس وقت وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو کمزور اپوزیشن کا سامنا ہے، اپوزیشن کو پنجاب میں دبایا گیا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی تو اپوزیشن کو نااہل کروانے کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن لے گئے تھے، بانی چیئرمین عمران خان کی پالیسیوں کی وجہ سے پی ٹی آئی کو حالیہ ضمنی انتخاب میں  بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے میڈیا سے گفتگو میں حریف جماعت کے حوالے سے کہا کہ پنجاب کی عوام مریم نواز کی حکومت سے خوش ہیں اور عوامی مسائل حل ہونے پر عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کردیا ہے۔

’حالیہ ضمنی الیکشن میں عوام نے بھر پور ووٹ ن لیگ کو دیا  اب عوام کسی انتشاری ٹولے کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اراکین شور شرابے اور بےجا تنقید کے علاوہ کچھ نہیں کرتے، اگر کوئی عوامی مفاد میں بہتر تجویز دیں تو اس پر غور کریں گے۔

مزید پڑھیں:

’لیکن ذاتیات سے متعلق نازیبا نعرے اور ہنگامہ آرائی برداشت نہیں کیے جا سکتے، مریم نواز کو ایسی اپوزیشن سے فرق نہیں پڑتا۔ ‘

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما ایم پی اے امتیاز شیخ نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں اور باہر وہ جو کر سکتے ہیں وہ کر رہے ہیں، وزیر اعلی پنجاب جو ظلم اپوزیشن کے ساتھ کر رہی ہیں اس کا سامنا ان کو بھی بہت جلد کرنا پڑے گا۔

’ہمارے کارکن اور اراکین اسمبلی قیادت کی ہر کال پر متحرک ہوتے ہیں، ہر بار احتجاج کی کال پر حکومتی رکاوٹوں اور انتقامی کارروائیوں کے باعث گرفتاریاں شروع کر دی جاتی ہیں۔‘

پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی کارکردگی

پی ٹی آئی پنجاب کے پارلیمانی رکن امتیاز شیخ کے مطابق ان کی جماعت کے 100 کے قریب ارکان اسمبلی ہیں، جبکہ مخصوص نشستیں دی نہیں گئیں، جو بھی ایوان میں تنقید کرتا ہے اس کے خلاف انتقامی کارروائی کر کے مقدمات درج کروا دیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اراکین کے گھروں پر چھاپے مار کر خاندانوں تک کو ہراساں کیا جاتا ہے، ہمارے آدھے سے زیادہ اراکین اسمبلی کے خلاف مقدمات درج ہیں۔

’ان حالات میں بھی ایوان کے اندر اور باہر ہم آواز اٹھا رہے ہیں۔ جبر و تشدد اور رکاوٹوں کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں۔‘

مزید پڑھیں:

پی ٹی آئی کی جانب سے ماضی میں پنجاب کے مختلف شہروں میں جلسے  اورجلوس ہوتے رہتے تھے، لیکن اب قیادت کی کال پر بھی احتجاج کے لیے کارکنوں کی حوصلہ افزا تعداد دیکھنے میں نہیں آتی۔

امتیاز شیخ کے مطابق، جیسے ہی بانی پی ٹی آئی احتجاج کی کال دیتے ہیں پوری پنجاب پولیس روکاوٹیں کھڑی کرنے اور گرفتاریوں پر لگ جاتی ہے۔

’مجھ سمیت پنجاب کی پوری قیادت کے خلاف سنگین مقدمات درج ہیں، ہم چھپتے پھررہے ہیں تاکہ باہر رہ کر کردارادا کرتے رہیں۔‘

مزید پڑھیں:

’امتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ ان کے بیشتر رہنما گرفتارہیں، جس کے تناظر میں پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ زیادہ تر جلسے اوراحتجاج خیبر پختونخوا میں ریکارڈ کرائے جائیں۔ ’یہ بات درست ہے کہ ہم قانون سازی میں ویسے رکاوٹ نہیں بنے جیسا بننا چاہیے تھا۔‘

پی ٹی جلسے جلسوں کے ذریعے اپنے کارکنوں کو متحرک رکھتی تھی

سینیئر پارلیمانی صحافی الفت مغل کے مطابق پی ٹی آئی جلسے جلوسوں کے ذریعے اپنے کارکنوں کو متحرک رکھتی تھی، جس طرح دیگر جماعتیں بطور اپوزیشن رکھتی رہی ہیں، لیکن پنجاب میں قیادت کا فقدان اور ایوان میں مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا نہ کرنے پر نہ صرف کارکن بلکہ اراکین اسمبلی بھی مایوس دکھائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں:

’پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف نے حکومت کو ابھی تک کوئی ٹف ٹائم نہیں دیا، وزیر اعلی کے انتخاب سے اب تک حکومت کو کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آئی بلکہ مریم نواز کے خلاف نعرے بازی پر پی ٹی آئی کے متعدد اراکین کی رکنیت ہی معطل کر دی گئی تھی۔‘

صحافی الفت مغل کے مطابق اس تناظر میں اپوزیشن ارکان نہ تو اسمبلی آتے ہیں اور نہ ہی قانون سازی کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں، پیکا ایکٹ جیسے قانون حکومت نے آسانی سے منظور کروا گیا اور بہت ایسے قوانین تھے جن پر پی ٹی آئی کو اسمبلی اور اسمبلی کے باہر موثر کردار ادا کرنا چائیے تھا مگر وہ نہ کر سکی، اب تو احتجاج اور بیان بازی بھی محدود ہو گیا ہے‘

مزید پڑھیں:

’جب سے سابق اپوزیشن لیڈر  ملک احمد خان بھچر نااہل ہوئے اس وقت سے اب تک اپوزیشن کا پنجاب اسمبلی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے ،انہوں نے بطور اپوزیشن لیڈر ن لیگ کو تھوڑا بہت ٹف ٹائم دیا تھا۔

الفت مغل کا کہنا تھا کہ حالیہ بجٹ میں جب وزیر اعلی پنجاب مریم نواز تقریر کر رہی تھیں تو اپوزیشن نے ملک احمد خان بھچر کی قیادت میں شدید ہلڑ بازی کی تھی اور ان کے 26 کے قریب ارکان بھی معطل ہو گئے تھے مگر جب سے نئے اپوزیشن لیڈر معین قریشی آئے ہیں، پی ٹی آئی پنجاب اسمبلی میں کمپرومائزڈ نظر آرہی ہے۔

’گزشتہ  کئی ماہ کے دوران پنجاب حکومت کے خلاف اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے قانون سازی ہو یا قراردادوں کی منظوری حکومت تمام امور بغیر کسی رکاوٹ کے سرانجام دے رہی ہے، کسی پالیسی یا منصوبے میں تبدیلی کرانے میں اپوزیشن ابھی تک ناکام رہی ہے۔‘

مزید پڑھیں:

حالیہ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی کوئی پالیسی نظر نہیں آئی لاہور کے حلقہ این اے 129 سے میاں اظہر کی وفات کے بعد نشست خالی ہوئی ، تو پی ٹی آئی کے سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے اپنے بھتجے کو الیکشن لڑ وایا مگر ہار گئے باقی پنجاب میں پی ٹی آئی کا ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ تھا۔

الفت مغل کے مطابق پی ٹی آئی بطور جماعت اس وقت پنجاب میں نہ ہونے کے برابر ہے، پی ٹی آئی کا ووٹ بینک موجود ہے لیکن وہ بھی موجودہ قیادت سے مایوس ہوتا جارہا ہے۔

’پی ٹی آئی کے طرز عمل کی وجہ سے مریم نواز حکومت پر اپوزیشن کا کوئی دباؤ نہیں ہے کیونکہ انہیں علم ہے کہ یہ جو بھی احتجاج کریں گے طاقتور حلقوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امتیاز شیخ پنجاب پنجاب اسمبلی پی ٹی آئی عمران خان مریم نواز وزیر اعلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امتیاز شیخ پنجاب اسمبلی پی ٹی ا ئی مریم نواز وزیر اعلی پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کو میں اپوزیشن پی ٹی آئی کے امتیاز شیخ حالیہ ضمنی مزید پڑھیں اپوزیشن کا الفت مغل کے مطابق کا سامنا کے خلاف رہی ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن