data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹیکنالوجی نے دنیا کو جتنی سہولتیں دی ہیں، اتنے ہی نئے خدشات بھی پیدا کیے ہیں، خاص طور پر تب جب بات کم عمر بچوں کی ہو۔

تازہ ترین عالمی تحقیق نے والدین کے اس بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے تحت وہ اپنے بچوں کو بہت کم عمری ہی میں اسمارٹ فون مہیا کر دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پری ٹین یعنی 9 سے 12 برس کی عمر وہ نازک مرحلہ ہے جب بچے کی عادات، ذہنی نشونما اور جسمانی ارتقا تیزی سے تشکیل پارہے ہوتے ہیں، ایسے میں اسمارٹ فون کی مسلسل موجودگی ان کے ذہن اور جسم دونوں پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہے۔

تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ اسمارٹ فون کا غیر ضروری استعمال کم عمر بچوں کی ذہنی کمزوری، نیند کی خرابی اور وزن میں غیر معمولی اضافے کا سبب بنتا ہے۔

یونیورسٹی آف پینسلوینیا کی ایک ماہر ٹیم نے Pediatrics نامی جرنل میں شائع ہونے والی اس جامع تحقیق میں 12 ہزار کے قریب ایسے بچوں کا مطالعہ کیا جو 12 برس کی عمر کو پہنچ رہے تھے۔ ان میں سے کچھ بچے ایسے تھے جو پہلے سے اسمارٹ فون کے مالک تھے، جبکہ دیگر بچے اس سہولت سے محروم تھے۔

محققین نے دونوں گروہوں کے طرزِ زندگی، رویوں، معمولات اور طبی حالتوں کو طویل عرصے تک جانچا۔ نتائج سامنے آئے تو تحقیق کاروں کے مطابق فرق حیران کن حد تک واضح تھا۔ یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں نے 12 سال کی عمر تک اسمارٹ فون استعمال کرنا شروع کر دیا تھا، ان میں ڈپریشن کے امکانات ان بچوں کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ تھے جن کے پاس فون موجود نہیں تھا۔

مزید برآں، جس حد تک ان بچوں کی جسمانی صحت متاثر ہوئی، وہ بھی تشویش کا باعث بنی۔ تحقیق کے مطابق ان میں مٹاپے کے امکانات 40 فیصد زیادہ تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ورچوئل مصروفیات بچوں کو جسمانی سرگرمیوں سے دور کر رہی ہیں۔

سب سے پریشان کن پہلو ان کی نیند سے متعلق تھا، جہاں یہ پتا چلا کہ 12 سال کی عمر میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والے بچوں میں ناکافی یا بے ترتیب نیند کے امکانات 62 فیصد زیادہ تھے۔ ماہرین کے نزدیک نیند کی کمی بچے کی دماغی کارکردگی، رویے اور تعلیمی کارکردگی کو براہِ راست متاثر کرتی ہے، جس کا اثر مستقبل کی زندگی تک قائم رہ سکتا ہے۔

تحقیق کے مصنفین کے مطابق مسئلے کی سنگینی یہیں تک محدود نہیں رہتی۔ ان کا کہنا ہے کہ جتنا ابتدائی مرحلے میں بچے کے ہاتھ میں فون تھما دیا جاتا ہے، اتنے ہی زیادہ نقصان کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ بچے جب اسمارٹ فون استعمال کرنے لگتے ہیں تو وہ نہ صرف طویل وقت اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں بلکہ ان کے ذہنی تاثر، جذباتی توازن اور جسمانی معمولات بھی آہستہ آہستہ تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی سرگرمیاں سکڑ کر ورچوئل دنیا تک محدود ہو جاتی ہیں، جو انہیں حقیقی سماجی روابط، کھیل کود اور ذہنی نشوونما کے مواقع سے دور کر دیتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسمارٹ فون کے مطابق بچوں کی کی عمر

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟