کم عمری میں لگنے والی ایسی عادت، جو بچوں کی صحت کیلیے خطرناک ہے، نئی تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹیکنالوجی نے دنیا کو جتنی سہولتیں دی ہیں، اتنے ہی نئے خدشات بھی پیدا کیے ہیں، خاص طور پر تب جب بات کم عمر بچوں کی ہو۔
تازہ ترین عالمی تحقیق نے والدین کے اس بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے تحت وہ اپنے بچوں کو بہت کم عمری ہی میں اسمارٹ فون مہیا کر دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پری ٹین یعنی 9 سے 12 برس کی عمر وہ نازک مرحلہ ہے جب بچے کی عادات، ذہنی نشونما اور جسمانی ارتقا تیزی سے تشکیل پارہے ہوتے ہیں، ایسے میں اسمارٹ فون کی مسلسل موجودگی ان کے ذہن اور جسم دونوں پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہے۔
تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ اسمارٹ فون کا غیر ضروری استعمال کم عمر بچوں کی ذہنی کمزوری، نیند کی خرابی اور وزن میں غیر معمولی اضافے کا سبب بنتا ہے۔
یونیورسٹی آف پینسلوینیا کی ایک ماہر ٹیم نے Pediatrics نامی جرنل میں شائع ہونے والی اس جامع تحقیق میں 12 ہزار کے قریب ایسے بچوں کا مطالعہ کیا جو 12 برس کی عمر کو پہنچ رہے تھے۔ ان میں سے کچھ بچے ایسے تھے جو پہلے سے اسمارٹ فون کے مالک تھے، جبکہ دیگر بچے اس سہولت سے محروم تھے۔
محققین نے دونوں گروہوں کے طرزِ زندگی، رویوں، معمولات اور طبی حالتوں کو طویل عرصے تک جانچا۔ نتائج سامنے آئے تو تحقیق کاروں کے مطابق فرق حیران کن حد تک واضح تھا۔ یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں نے 12 سال کی عمر تک اسمارٹ فون استعمال کرنا شروع کر دیا تھا، ان میں ڈپریشن کے امکانات ان بچوں کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ تھے جن کے پاس فون موجود نہیں تھا۔
مزید برآں، جس حد تک ان بچوں کی جسمانی صحت متاثر ہوئی، وہ بھی تشویش کا باعث بنی۔ تحقیق کے مطابق ان میں مٹاپے کے امکانات 40 فیصد زیادہ تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ورچوئل مصروفیات بچوں کو جسمانی سرگرمیوں سے دور کر رہی ہیں۔
سب سے پریشان کن پہلو ان کی نیند سے متعلق تھا، جہاں یہ پتا چلا کہ 12 سال کی عمر میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والے بچوں میں ناکافی یا بے ترتیب نیند کے امکانات 62 فیصد زیادہ تھے۔ ماہرین کے نزدیک نیند کی کمی بچے کی دماغی کارکردگی، رویے اور تعلیمی کارکردگی کو براہِ راست متاثر کرتی ہے، جس کا اثر مستقبل کی زندگی تک قائم رہ سکتا ہے۔
تحقیق کے مصنفین کے مطابق مسئلے کی سنگینی یہیں تک محدود نہیں رہتی۔ ان کا کہنا ہے کہ جتنا ابتدائی مرحلے میں بچے کے ہاتھ میں فون تھما دیا جاتا ہے، اتنے ہی زیادہ نقصان کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ بچے جب اسمارٹ فون استعمال کرنے لگتے ہیں تو وہ نہ صرف طویل وقت اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں بلکہ ان کے ذہنی تاثر، جذباتی توازن اور جسمانی معمولات بھی آہستہ آہستہ تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی سرگرمیاں سکڑ کر ورچوئل دنیا تک محدود ہو جاتی ہیں، جو انہیں حقیقی سماجی روابط، کھیل کود اور ذہنی نشوونما کے مواقع سے دور کر دیتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسمارٹ فون کے مطابق بچوں کی کی عمر
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔