بھارت اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کیلئے ٹرمز آف ریفرنس پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
بھارتی وزیرِ پیوش گوئل کا کہنا ہے کہ معاہدے کا مقصد دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر نے کہا ہے کہ بھارت ایک طاقتور ملک کے طور پر ابھر رہا ہے اور مستقبل میں یہ بڑی عالمی قوت ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت اور اسرائیل نے آزاد تجارتی معاہدے کے لیے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آر) پر دستخط کیے ہیں۔ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں موجود بھارتی کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل اور اسرائیل کی معیشت اور صنعت کے وزیر نیربرکت نے ٹی او آر پر دستخط کیے۔ بھارتی وزیرِ پیوش گوئل کا کہنا ہے کہ معاہدے کا مقصد دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر نے کہا ہے کہ بھارت ایک طاقتور ملک کے طور پر ابھر رہا ہے اور مستقبل میں یہ بڑی عالمی قوت ہوگا۔
بھارت اور اسرائیل کے درمیان دستخط شدہ فریم ورک کے تحت ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کیا جائے گا، سرمایہ کاری کے فروغ میں سہولت، ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے تعاون میں اضافہ اور خدمات کی تجارت کو فروغ دینے کے لیے قواعد میں نرمی جیسے امور شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت ایشیاء میں اسرائیل کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور اسرائیل
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔