کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں
سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا

سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں، تاہم سندھ ہائی کورٹ بار کی ریلی وزیر قانون سے مذاکرات کے بعد ختم کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز کراچی میں وکلا نے احتجاجی مارچ کیا اور کارونجھر پہاڑی سلسلے کے تحفظ اور بقا کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ تھرپارکر میں واقع یہ پہاڑی سلسلہ 305میٹر بلند اور تقریباً 19کلومیٹر طویل ہے ، کارونجھر مقامی لوگوں کے لیے معاشی حیثیت بھی رکھتا ہے کیونکہ یہ قیمتی معدنیات اور دواؤں کی جڑی بوٹیوں سے مالا مال ہے ۔پولیس نے مظاہرین کو وزیرِاعلیٰ ہاؤس تک نہیں پہنچنے دیا اور عمارت جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔دوسری جانب، اس اقدام سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب کہ ٹریفک پولیس نے متعدد پیغامات جاری کرکے شہریوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت کردی اور علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے ۔ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے مظاہرین پی آئی ڈی سی چوک میں جمع ہوئے ، جہاں وکلا تنظیم کے صدر بیرسٹر سرفراز میتلو نے خطاب کیا۔انہوں نے سندھ حکومت پر دوہرے معیار کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ایک طرف پہاڑی مقام کو لیز پر دینے والوں کے ساتھ ہے ، اور دوسری طرف احتجاج کرنے والوں کے ساتھ بھی کھڑی دکھائی دے رہی ہے ۔انہوں نے نگران حکومت کے مجوزہ گرینائٹ نکالنے کے منصوبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سابق نگراں صوبائی حکومت کے منصوبے کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں،کارونجھر پہاڑ سندھ کی ملکیت ہے ۔ان کا مزید کہا کہ حکومت عدالت میں دائر اپنی اپیل بھی واپس لے ، بصورتِ دیگر وکلا 15 دن بعد دوبارہ احتجاج کریں گے ۔سندھ حکومت نے کارونجھر پہاڑی سلسلے کے تحفظ سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے ۔بعد ازاں بیرسٹر میتلو اور سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے دیگر نمائندے بات چیت کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچے جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر میتلو نے بتایا کہ ان کی وزیر قانون سندھ ضیاالحسن لانجار سے ملاقات ہوئی، اور وزیر قانون نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت اپنی اپیل واپس لے گی اور کارونجھر پہاڑی سلسلے کو قومی ورثہ قرار دینے کا فیصلہ کرے گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر قانون نے انہیں یقین دلایا کہ حکومت نے پہاڑی علاقے کے 21 ہزار ایکڑ کے لیز معاہدے کو ختم کر دیا ہے۔ادھر، وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وکلا کے وفد نے وزیر قانون کو اپنے مطالبات پر مشتمل یادداشت پیش کی۔بیان کے مطابق یادداشت میں کہا گیا کہ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو پہاڑی سلسلے کو لاحق موجودہ اور ممکنہ خطروں پر تشویش ہے ، کیونکہ یہ سندھ کا قدرتی، ثقافتی اور تاریخی ورثہ ہے اور اس کا نقصان ناقابل تلافی ہوگا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیر قانون نے وفد کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی صوبے کے قدرتی، تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے ۔مزید کہا گیا کہ سندھ کی سرزمین ہمارے آباؤ اجداد کی امانت ہے ، اور ماحول، پہاڑوں، قدرتی وسائل اور ثقافتی شناخت کا تحفظ حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے ۔وزیر قانون نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ سمیت تمام تاریخی اور ماحولیاتی مقامات کے تحفظ کے لیے قانونی، انتظامی اور عملی اقدامات کیے جائیں گے ، اور قانونی برادری کی تجاویز کو سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔بیان کے مطابق ملاقات کے بعد دونوں فریقوں نے ایک یادداشت پر دستخط کیے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سندھ ہائیکورٹ بار بار ایسوسی ایشن کارونجھر پہاڑ پہاڑی سلسلے کہا گیا کہ کے تحفظ کے لیے کے بعد کر دیا

پڑھیں:

سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن


فائل فوٹو 

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔

سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ  سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔

کراچی آپریشن میں ایسے دہشتگرد سامنے آئے جو کے ایم سی، واٹر بورڈ کے ملازم تھے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔

خالد مقبول، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں،  ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ  کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن