کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں
سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا
سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں، تاہم سندھ ہائی کورٹ بار کی ریلی وزیر قانون سے مذاکرات کے بعد ختم کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز کراچی میں وکلا نے احتجاجی مارچ کیا اور کارونجھر پہاڑی سلسلے کے تحفظ اور بقا کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ تھرپارکر میں واقع یہ پہاڑی سلسلہ 305میٹر بلند اور تقریباً 19کلومیٹر طویل ہے ، کارونجھر مقامی لوگوں کے لیے معاشی حیثیت بھی رکھتا ہے کیونکہ یہ قیمتی معدنیات اور دواؤں کی جڑی بوٹیوں سے مالا مال ہے ۔پولیس نے مظاہرین کو وزیرِاعلیٰ ہاؤس تک نہیں پہنچنے دیا اور عمارت جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔دوسری جانب، اس اقدام سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب کہ ٹریفک پولیس نے متعدد پیغامات جاری کرکے شہریوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت کردی اور علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے ۔ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے مظاہرین پی آئی ڈی سی چوک میں جمع ہوئے ، جہاں وکلا تنظیم کے صدر بیرسٹر سرفراز میتلو نے خطاب کیا۔انہوں نے سندھ حکومت پر دوہرے معیار کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ایک طرف پہاڑی مقام کو لیز پر دینے والوں کے ساتھ ہے ، اور دوسری طرف احتجاج کرنے والوں کے ساتھ بھی کھڑی دکھائی دے رہی ہے ۔انہوں نے نگران حکومت کے مجوزہ گرینائٹ نکالنے کے منصوبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سابق نگراں صوبائی حکومت کے منصوبے کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں،کارونجھر پہاڑ سندھ کی ملکیت ہے ۔ان کا مزید کہا کہ حکومت عدالت میں دائر اپنی اپیل بھی واپس لے ، بصورتِ دیگر وکلا 15 دن بعد دوبارہ احتجاج کریں گے ۔سندھ حکومت نے کارونجھر پہاڑی سلسلے کے تحفظ سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے ۔بعد ازاں بیرسٹر میتلو اور سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے دیگر نمائندے بات چیت کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچے جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر میتلو نے بتایا کہ ان کی وزیر قانون سندھ ضیاالحسن لانجار سے ملاقات ہوئی، اور وزیر قانون نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت اپنی اپیل واپس لے گی اور کارونجھر پہاڑی سلسلے کو قومی ورثہ قرار دینے کا فیصلہ کرے گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر قانون نے انہیں یقین دلایا کہ حکومت نے پہاڑی علاقے کے 21 ہزار ایکڑ کے لیز معاہدے کو ختم کر دیا ہے۔ادھر، وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وکلا کے وفد نے وزیر قانون کو اپنے مطالبات پر مشتمل یادداشت پیش کی۔بیان کے مطابق یادداشت میں کہا گیا کہ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو پہاڑی سلسلے کو لاحق موجودہ اور ممکنہ خطروں پر تشویش ہے ، کیونکہ یہ سندھ کا قدرتی، ثقافتی اور تاریخی ورثہ ہے اور اس کا نقصان ناقابل تلافی ہوگا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیر قانون نے وفد کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی صوبے کے قدرتی، تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے ۔مزید کہا گیا کہ سندھ کی سرزمین ہمارے آباؤ اجداد کی امانت ہے ، اور ماحول، پہاڑوں، قدرتی وسائل اور ثقافتی شناخت کا تحفظ حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے ۔وزیر قانون نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ سمیت تمام تاریخی اور ماحولیاتی مقامات کے تحفظ کے لیے قانونی، انتظامی اور عملی اقدامات کیے جائیں گے ، اور قانونی برادری کی تجاویز کو سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔بیان کے مطابق ملاقات کے بعد دونوں فریقوں نے ایک یادداشت پر دستخط کیے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سندھ ہائیکورٹ بار بار ایسوسی ایشن کارونجھر پہاڑ پہاڑی سلسلے کہا گیا کہ کے تحفظ کے لیے کے بعد کر دیا
پڑھیں:
وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔(جاری ہے)
وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔