کراچی: وکلاء کے ناصر شاہ سے مذاکرات کامیاب، احتجاج ختم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
فوٹو: جنگ
کراچی میں کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کے خلاف احتجاج کرنے والے وکلاء کے صوبائی وزیر ناصر شاہ سے مذاکرات کامیاب ہوگئے، وکلاء کا وفد کمشنر ہاؤس سے واپس روانہ ہوگیا۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ کی سربراہی میں وفد نے صوبائی وزیر ناصر شاہ سے ملاقات کی اور چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب بڑھنے پر پولیس نے وکلا کو روکنے کی کوشش کی، پولیس سے جھڑپ اور دھکم پیل کے دوران کئی وکلا کنٹینر پر چڑھ گئے۔
ناصر شاہ نے وکلاء سے کہا کہ آپ کی اور ہماری جہدوجہد مشترکہ ہے، کینال اور پانی ہمارا بھی ایشو ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ چیئرمین صاحب نے کینالز کا ایشو واپس کروایا ہے۔
ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ کارونجھر کے مسئلہ پر ہم آپ کے ساتھ ہیں، اسمبلی میں آپ کی نمائندگی کروں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ناصر شاہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔