کرن جوہر کا اپنی نسوانی چال ڈھال سے متعلق دلچسپ انکشاف، تبدیلی کب اور کیسے آئی؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
بالی ووڈ کے معروف ہدایت کار اور پروڈیوسر کرن جوہر نے اپنی نسوانی چال ڈھال سے متعلق دلچسپ انکشاف کیا ہے۔
بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں بالی ووڈ ہدایت کار، پروڈیوسر اور اداکار کرن جوہر نے انکشاف کیا کہ 15 سال کی عمر تک اُن کی آواز اور چال ڈھال نسوانی تھی۔
کرن جوہر نے بتایا کہ انہیں بچپن سے ہی مختلف کورسسز کا شوق تھا اسی وجہ سے وہ کچھ نہ کچھ سیکھتے رہتے تھے، کھانا بنانا سیکھا جبکہ امپورٹ اور ایکسپورٹ کے بزنس کے حوالے سے بھی پڑھائی کی۔
کرن جوہر کے مطابق ’مجھے بچپن سے ہی مقرر اور ٹیبلو کرنے کا شوق تھا اور اس کے لیے بھی کورس کیا‘۔
ہدایت کار کے مطابق 1989 میں کوچنگ کے ٹیچر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ میری آواز اور چال ڈھال لڑکیوں کی طرح ہے اور اس کی وجہ سے مستقبل میں بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ معاشرے کے لوگ مذاق بنائیں گے۔
’انہوں نے مجھے کہا کہ تم ذہین ہو اور سیکھنے کی صلاحیت بھی ہے جبکہ تمھاری شخصیت پُرکشش ہے، میں تمھاری مدد کر کے آواز کو مردوں کی طرح کروں گا‘۔
کرن جوہر نے بتایا کہ پھر تین سال تک ٹیچر نے ہفتے میں تین روز دو گھنٹے کی کلاس لی تاہم اس بارے میں گھر والوں کو نہیں بتایا تاکہ شرمندگی سے بچ سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے آواز لڑکوں کی طرح کرنے کیلیے تین سال تک کوچنگ میں کلاسسز لیں اور پھر آواز کچھ بہتر ہوئی اور یہ اُس وقت کی بات ہے جب میری عمر کے بچے کرکٹ کھیلتے تھے۔
ہدایت کار کے مطابق انہوں نے اپنے والد سے جھوٹ بولا کہ وہ کمپیوٹر سیکھنے کیلیے کلاسسز لے رہے ہیں اور اسی کی فیس بھی گھر والوں سے لیتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ تین سال میں جب عمر 19 سال کے قریب ہوئی تو آواز، چال ڈھال اور انداز سب تبدیل ہوگیا اور وہ اس پر اپنے ٹیچر کا شکر گزار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرن جوہر نے نے بتایا کہ ہدایت کار انہوں نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔