اسلام آباد ہائی کورٹ : کنگڈم ویلی کی درخواست خارج
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے کنگڈم ویلی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ہائوسنگ پراجیکٹ پر عائد کیے گئے 15 کروڑ روپے جرمانے کیخلاف دائر اپیل نا قابل سماعت قرار دیکر خارج کر دی ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ کمپٹیشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا مناسب فورم کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل ہے جو کہ اب فعال ہو چکا ہے۔واضح رہے کہ ستمبر اور اکتوبر کے تقربیاً دو ماہ کے دوران کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل اپنے چیئرمین کی عدم دستیابی کے باعث غیر فعال تھا۔ کمپنی نے اس عرصہ کیدوران کنگڈم ڈیلی نے اسلام اباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی۔ عدالت نے جرمانے کی ریکوری پر عبوری حکمِ امتناع جاری کیا تھا۔کمپٹیشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت کی جانب سے کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل کے چئیرمین کی تعیناتی کے بعد اب ٹربیونل فعال ہے۔ ٹربیونل میں کنگڈم ویلی کی اپیل پہلے ہی سماعت کے لیے مقرر کر چکا ہے اور کسی قسم کا حکمِ امتناع جاری نہیں کیا گیا۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے درخواست گزار کمپنی کو ٹربیونل سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔کمپٹیشن کمیشن نے گمراہ کن مارکیٹنگ اور اشتہارات پر کنگڈم ویلی پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ کمیشن کی انکوئری کے مطابق کنگڈم عیلی نامی کمپنی نے اپنے منصوبے کو ”کنگڈم ویلی اسلام آباد” کے طور پر مشتہر کیا، حالانکہ یہ رہائشی منصوبہ دراصل راولپنڈی کے موضع چھورہ، میں واقع ہے۔ کمپنی نے منصوبے کو نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام اور نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے بھی منظور شدہ ہونے کا غلط تاثر دیا۔ کمپنی کی جانب سے منصوبے کو غلط طور پر ”این او سی اور منظور شدہ” قرار دیا گیا۔ کمپٹیشن کمیشن کے دو رکنی بینچ نے کمپنی پر کمپٹیشن ایکٹ 2010 کی کی خلاف ورزی پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب یہ معاملہ کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل میں سنا جائے گا۔ ٹربیونل میں اپیل پہلے ہی زیرِ سماعت ہے اور کمیشن کے فیصلے کے خلاف کسی قسم کا حکمِ امتناع موجود نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کمپٹیشن کمیشن ہائی کورٹ کمیشن کے اسلام ا
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔