data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: ٹائلز سیکٹر میں سالانہ 30 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کا انکشاف ہواہے۔

ایف بی آرنے سترہ بڑے شعبوں میں پیداواری یونٹس پر اے آئی بیسڈ کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کر لیاہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں فیکٹریز میں کیمروں کی تنصیب پر شدید بحث ہوئی ۔جس میں بتایا گیا کہ اس سال شوگر سیکٹر سے 76 ارب،سیمنٹ سیکٹر سے 102 ارب اضافی ٹیکس آمدن متوقع ہے، ایک چینی کمپنی نے بڑی تعداد میں کیمروں کی تنصیب کی شدید مخالفت کر دی ، چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ویڈیو کیمروں کی تعداد 16 سے کم کرکے 4 کر دی گئی ہے، چوری روکنے کیلئے ویڈیو انیٹیکل کیمروں کی تنصیب ضروری ہے۔چینی کمپنی کے نمائندوں نے کیمروں کی تنصیب کے بغیر ہی سیلز ٹیکس دینے پر اصرار کیا۔

چیئرمین ایف بی آر نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ فیکٹری پر کیمرے نصب کریں یا اپنا بزنس بند کریں۔ ایف بی آر حکام کا کہناتھا کہ چار کیمرے بیلٹ، پیکنگ ایریاز، داخلی وخارجی راستوں پر نصب کیئے جائیں گے، فیکٹری میں بننے اور باہر نکلنے والی ایک ایک ٹائل کاؤنٹ کی جائے گی۔

نمائندہ چینی کمپنی نے کہا کہ سعودی عرب اور تھائی لینڈ سمیت کسی ملک میں ایسا سسٹم نصب نہیں، چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ وفاقی وزرا کی شوگر ملز پر بھی کیمرے نصب ہیں، کوئی اعتراض نہیں آیا۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہناتھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے تمام شوگر ملز پر ویڈیو کیمرے نصب کرنے کی ہدایت کی ہے، ہمیں کمپنی کی اپنی کاؤنٹنگ پر اعتبار نہیں، نئے اے آئی سسٹم پر اعتبار ہے، چینی کمپنی نے کہا کہ یہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا معاملہ ہے، نظرثانی کی جائے، کیمروں کی تنصیب سے ہمارے ٹریڈ سیکرٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ شوگر، سیمنٹ سمیت تمام بڑے کاروباری شعبوں میں کیمرے نصب ہوں گے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیئرمین ایف بی ا ر نے کیمروں کی تنصیب چینی کمپنی کیمرے نصب نے کہا کہ

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا