28 ویں آئینی ترمیم کب آئے گی؟ وزیراطلاعات نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اور جب حکومت نے ترمیم لانی ہوگی تو اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے 28 ویں آئینی ترمیم سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی اس ترمیم کے حوالے سے آفیشل طور پر کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی مسودہ تیار ہوا ہے۔ اس حوالے سے جب کوئی پیش رفت ہوگی تو اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایم کیو ایم نے لوکل باڈیز کے حوالے سے جو تجاویز دی ہیں وہ ہمارے ذہن میں ہیں اور ہم نے اس کی حمایت بھی کی۔ اسی طرح صوبوں کی مرضی کے بغیر این ایف سی کو نہیں چھیڑا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں